Key Points
- آسٹریلیا میں سن اسکرین کو سورج سے بچاؤ کے دیگر اقدامات کے ساتھ استعمال کرنا ناگزیر ہے۔
- سن اسکرینز مضر الٹرا وائلٹ شعاعوں کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ فراہم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔
- سن اسکرین استعمال کرنا شروع کرنے کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی، لیکن اسے کس طرح لگایا جاتا ہے، یہ بہت اہم ہے۔
- ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ایس پی ایف 30+ یا ایس پی ایف 50+ والی براڈ اسپیکٹرم، واٹر ریزسٹنٹ اور ٹی جی اے سے منظور شدہ سن اسکرین استعمال کی جائے۔
- آسٹریلیا میں جلد کا کینسر اور میلانوما کتنے عام ہیں؟
- آپ جلد کے کینسر سے بچاؤ کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
- کیا سن اسکرین مجھے جلد کے کینسر سے بچا سکتی ہے؟
- SPF کیا ہے؟
- سن اسکرین کو صحیح طریقے سے کیسے استعمال کریں؟
- سن اسکرین منتخب کرتے وقت کیا دیکھیں؟
- سن اسکرین استعمال کرنے سے وٹامن ڈی کی کمی کے بارے میں فکر کرنی چاہیے؟
- سن اسکرین کے اجزاء اور DIY سن اسکرین کے بارے میں حقائق کیا ہیں؟
آسٹریلیا کو دنیا کا بدقسمت اعزاز حاصل ہے کہ یہاں جلد کے کینسر کی شرح سب سے زیادہ ہے، اسی لیے اسے دنیا کا “skin cancer capital” کہا جاتا ہے۔
آسٹریلیا میں جلد کے تقریباً تمام کینسر الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کی حد سے زیادہ نمائش کے باعث ہوتے ہیں، جو سورج کی روشنی کا وہ حصہ ہے جو سن برن اور وقت کے ساتھ جلد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
آسٹریلیا میں جلد کا کینسر اور میلانوما کتنے عام ہیں؟
لنڈا مارٹن کہتی ہیں، “ہر تین میں سے دو آسٹریلوی اپنی زندگی میں جلد کے کینسر کا شکار ہوں گے۔” وہ سڈنی چلڈرنز ہسپتال میں بچوں کی ماہر امراضِ جلد ہیں، میلانوما انسٹی ٹیوٹ آسٹریلیا کی بورڈ ایڈوائزر اور یو این ایس ڈبلیو میں شعبہ امراضِ جلد کی سربراہ ہیں۔
میلانوما کے حوالے سے، لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں زندگی بھر کا خطرہ مجموعی طور پر ہر 15 میں سے ایک ہے۔
“اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سال کنڈرگارٹن شروع کرنے والی ہر کلاس میں دو تہائی بچے بڑے ہو کر جلد کے کینسر کا شکار ہوں گے، اور ہر کلاس میں ایک یا دو بچوں کو میلانوما ہوگا۔”





