ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے شرحِ سود بڑھا کر کیش ریٹ تین اعشاریہ چھ فیصد سے تین اعشاریہ پچاسی فیصد کر دیا ہے، جو دو سال سے زائد عرصے بعد پہلا اضافہ ہے۔ چار بڑے بینکوں اور ماہرین نے مہنگائی کے حالیہ اعداد و شمار کے بعد اس کی پیش گوئی کی تھی۔ چھ لاکھ ڈالر قرض رکھنے والے اوسط مالک کی ماہانہ قسط میں تقریباً نوے ڈالر اضافہ ہوگا۔ اس فیصلے نے یہ سیاسی بحث بھی تیز کر دی ہے کہ مہنگائی کی اصل وجہ حکومتی اخراجات ہیں یا نجی طلب۔
ڈاکٹر جم چالمرز کے مطابق حکومتی اخراجات کو مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہرانا سیاسی مؤقف ہے، حقائق نہیں۔
وہ تسلیم کرتے ہیں کہ شرحِ سود توقع سے زیادہ بڑھی ہے، مگر عالمی معاشی غیر یقینی کے پیشِ نظر مہنگائی اور پیداواریت میں اصلاح فوری ضرورت ہے۔ ڈاکٹر چالمرز کے مطابق حکومت روزمرہ دباؤ کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
, حزبِ اختلاف کی رہنما سوسن لی کے مطابق مہنگائی کا ذمہ دار حکومتی خرچ ہے۔
دوسری جانب گرینز پارٹی کی رہنما لاریسا واٹرز مہنگائی کا سبب آسٹریلیا کی قیاسی ہاؤسنگ مارکیٹ کو قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق بڑے بینک فائدہ اٹھائیں گے جبکہ رہن رکھنے والے اور کرایہ دار متاثر ہوں گے۔
اسکول آف پولیٹیکل اکانومی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹم تھارنٹن کے مطابق جی ڈی پی کے تناسب سے حکومتی اخراجات او ای سی ڈی معیار کے لحاظ سے غیر معمولی زیادہ نہیں۔ ان کے مطابق شرحِ سود بڑھانا واحد حل نہیں




