آسٹریلیا میں افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح میں کمی آئی ہے، لیکن بنیادی قیمتوں پر دباؤ اب بھی برقرار ہے۔ یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ریزرو بینک کی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے آسٹریلین یہ نہیں سمجھتے کہ شرحِ سود کیوں بڑھتی ہے، یا یہ افراطِ زر کو کم کرنے میں کس طرح مدد کرتی ہے۔
آسٹریلیا میں مجموعی افراطِ زر کی شرح 3.8 فیصد تک کم ہو گئی ہے، جو مئی میں 4 فیصد تھی، اور یہ توقعات سے بھی قدرے بہتر رہی۔پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اس کمی کی بڑی وجہ رہی، جس میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نرمی اور وفاقی حکومت کی جانب سے ایندھن پر عائد ایکسائز میں عارضی ریلیف نے بھی مدد دی۔اب ان اعداد و شمار کا جائزہ اگلے ماہ شرحِ سود کے فیصلے سے قبل ریزرو بینک کرے گا۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر، آر بی اے نے ایک زیادہ بنیادی مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔بہت سے آسٹریلین یہ نہیں سمجھتے کہ آخر شرحِ سود بڑھتی ہی کیوں ہے۔سروے میں شامل نصف سے زیادہ افراد کا خیال تھا کہ زیادہ شرحِ سود، زیادہ افراطِ زر کا باعث بنتی ہے۔
گورنر مشیل بُلاک کا کہنا ہے کہ لوگ شرح سود کی تبدیلی کی وجہ اور اس کے اثرات میں فرق نہیں کر پا رہے۔وفاقی وزیرِ خزانہ جم چالمرز کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ افراطِ زر درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔حزب اختلاف کے خزانہ کے ترجمان ٹِم ولسن کا کہنا ہے کہ حکومت افراطِ زر کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ شرحِ سود میں اضافے کا مقصد مجموعی معاشی اخراجات کو سست کرنا ہوتا ہے تاکہ عام لوگوں پر کم خرچ کرنے پر دباؤ بڑھا کر قیمتوں کو کم رکھا جاسکے۔

بہت سے گھرانوں کے لیے شرح سود میں اضافے کا مقصد غیر ضروری اخراجات میں کمی کرنا ہوتا ہےماہرِ معاشیات مائیکل ہوئر





