ون نیشن کی مائیگریشن پالیسی کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے جس میں تین سالوں کے دوران آسٹریلیا میں 750,000 کی کمی کی تجویز ہے۔کابینہ کے وزیر مرے واٹ کا کہنا ہے کہ اکیلے اقتصادی اثرات ہی اس منصوبے کو تباہی کا نسخہ بنا دیتے ہیں۔
کوئینزلینڈ کے لبرل ایم پی کولن بائس نے زیادہ محتاط رویہ اختیار کیا ہے، اور ون نیشن کی ہجرت کی پالیسی کے بارے میں قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے
وفاقی حکومت نے بحران اور عبوری رہائشاتی منصوبوں کے لیے 300 ملین ڈالر کی رقم جاری کی ہے، جو کہ 500 سے زائد اضافی گھروں فراہم کرے گی۔
وزیرِ ہاؤسنگ کلائر اونیوال اور وزیرِ سوشل سروسز تانیا پلبیرسیک کا کہنا ہے کہ یہ رقم ان منصوبوں کے علاوہ ہے جو اس شعبے میں پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں، جس سے کمزور آسٹریلوی باشندوں کی مدد کے لیے کل امدادی رقم 1 بلین ڈالر بن جاتی ہے۔
آسٹریلیا میں بحران کی رہائش ایسی عارضی اور مختصر مدتی رہائشی سہولیات پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ گھریلو تشدد یا گھربدری جیسے مسائل سے متاثرہ خاندانوں یا ہنگامی ذاتی بحران کا سامنا کرنے والے افراد کو فراہم کی جاتی ہیں۔





