کرائسٹ چرچ کے دہشت گردی حملے پر رائل کمیشن رپورٹ پر کمیونٹی کی طرف سے ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ لوگوں نے درگزر اور معافی کی بات کی ہے اور کچھ نے وزیرآعظم جسینڈا آرڈرن کی معافی کو سراہا ہے مگر کئی متاثرہ خاندان اور مسلم کمیونٹی کے اراکین اس رپورٹ سے مطمئین نظرنہیں آتے۔ دہشت گردی کانشانہ بننے والی مرکزی مسجد النور کی مسلم ایسوایشن کے سابق صدر کا کہنا ہے کہ نہ تو حکام میں سے کسی کو جوابدہ بنایا گیا نہ ملک میں سیکیوریٹی کی سب سے بڑی ناکامی پر کوئی برطرفی سامنے آئی ۔ کئی حلقوں کی طرف سے رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کو نیوزی لینڈ کی وزیر آعظم جسنڈا آرڈرن کا اصل امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ تفصیل سنئے اس پوڈکاسٹ میں۔
شئیر





