آسٹریلیا سے باہر سفر کرنے والے بین الاقوامی طلبہ کو انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹس اور شناختی دستاویزات مجرموں کو نہ بیچیں۔ آسٹریلین فیڈرل پولیس کے مطابق طلبہ کو 'فوری رقم' کا لالچ دیا جاتا ہے - لیکن اسے قبول کرنا انہیں مجرمانہ نیٹ ورکس سے مستقل طور پر جوڑ سکتا ہے۔
یہ کہانی ایس بی ایس عربی اور ایس بی ایس ہندی کے ساتھ اشتراک میں تیار کی گئی ہے۔
حمزہ سعودی عرب سے 2022 کے آخر میں آسٹریلیا آئے اور اپنی ڈگری مکمل کرنے کے قریب ہیں۔
23 سالہ حمزہ نے ان اسکیمز کی تعداد بھلا دی ہے جنہیں انہوں نے بچنے کی کوشش کی - ان میں ایک مشکوک فون کال شامل ہے جو کچھ مہینے پہلے آئی۔
انٹیلیک برانچ سپرنٹنڈنٹ ماری آندرسن نے یونیورسٹی کے بعد آسٹریلیا چھوڑتے ہوئے طلباء کے لئے ایک فوری انتباہ جاری کیا ہے۔
سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ طلباء سے قانونی لگتی جرائم پیشہ لوگ رابطہ کر سکتے ہیں جو ان کے آسٹریلیا کے بینک اکاؤنٹ کے استعمال کے لئے سینکڑوں ڈالر کی پیش کش کرتے ہیں۔
پاسپورٹ، ڈرائیور کا لائسنس یا حکومت کے جاری کردہ شناختی دستاویزات جیسی شناختی دستاویزات متاثرین کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھولنے کے لئے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔
اے ایف پی کا کہنا ہے کہ وہ مزید اسکیم نیٹ ورکس کا سراغ لگا رہے ہیں جو طالب علموں کے اکاؤنٹس سے جڑے ہیں اور ان لوگوں کو جو اس میں شامل ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ چلا رے ہیں۔





