پاکستان کی حکومت کے مطابق ابھی وباء کا انتہائی درجہ آنا باقی ہے۔ فرجاد شاہد پاکستان میں کمبایئنڈ ملٹری ہسپتال میں کام کرتے ہیں- ان کے مطابق وباء کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ حکومتی پالیسیوںکے نقائص ہے۔
ایس بی ایس اردو سے بات کرتے کوئے فرجاد نے بتایا کہ جب لاک ڈاون کیا جاتا ہے تو مکمل لاک ڈاون ہوتا ہے کوئ گھر سے باھر نہیں نکلتا لیکن جب لاک ڈاون ہٹایا جاتا ہے تو کوئی ایس او پی پر عمل نہیں کرتا جس کی وجہ سے وباء مزید پھیلتی ہے

فرجاد کے مطابق ہسپتالوں میں کام کرنے والا عملہ اور ڈاکٹرز بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ ڈاکٹرز اور دیگر عملے کے پاس حفاظتی کٹس کمی ہے۔ اس کےعلاوہ اگر کسی ڈاکٹرز پر کرونا کا شبہ ہو تو اسے علامات ظاہر ہونے سے لے کر ٹیسٹ کے نتائج آنے تک ڈاکٹرز ہاسٹل میں رکھا جاتا ہے جس سے دیگر لوگوں میں بھی وباء پھیلنے کا احتمال موجود رہتا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ بروقت مربوط پالیسیاں بنا کر اس وباء پر قابو پایا جا سکتا تھا ۔
لئیق اعوان لاھور کے ایک ھسپتال میں ڈاکٹر ہیں- ان کا کہنا تھا کہ ھسپتال میں مریضوں کو شبے کی بنیاد پر داخل کیا جاتا ہے جبکہ حکومتی ٹیم ٹیسٹ لینے کے لئے بعد میں آتی ھے جس کے نتائج چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں کے بعد موصول ھوتے ہیں۔ دریں اثناء مریضوں کے ساتھ کیا کرنا ہے اس کی کوئ مروجہ پالیسی موجود نہیں ۔

لئیق کے مطابق عوام میں بنیادی طور پر کرونا کے متعلق شعور نہ ہونا اور سوشل میڈیا کے ذریعے منفی پروپیگینڈا بھی اس وباء کے پھیلنے میں کردار ادا کر رھا ہے ۔ ایس بی ایس اردو کو انھوں نےبتایا کہ بعض اوقات علامات بتاتے ہوئے لوگ دروغ گوئ سے کام لیتے ہیں جو اس وباء کے پھیلنے کا باعث بن رہا ہے۔
پاکستان کا اگر آسٹریلیا سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو وزارت صحت کے مطابق آسٹریلیا میں اس وقت 7700 کے قریب کیسز رکارڈ ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر صحت یاب ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر وفا آسٹریلیا میں ایک جی پی ہیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پاکستان میں اچھے انتظامات کئے ہیں لیکن اگر آسٹریلیا اور پاکستان کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں زیادہ دیر تک لاک ڈاون ممکن نہیں ہے جس کی وجہ ایک کمزور معاشی نظام بھی ہے۔ دوسری جانب اگر آسٹریلیا میں دیکھا جائے تو حکومت نے یہاں پر نوکری سے نکالے جانے والوں کے لئے امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر وفا کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کچھ ایسے مریض بھی آئے ہیں جو معاشی طور پر تو متاثر نہیں ہوئے لیکن سماجی دوری اور تنہائی کی وجہ سے ذہنی بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں ۔
حکومت پاکستان کے مطابق جولائ کے آخر تک پاکستان میں 12 لاکھ کورونا وائرس کے کیسز متوقع ہیں جو کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے
آسٹریلیا میں لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے کے دوران کم ازکم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنا چاہیئے۔
اپنی ریاست یا علاقے میں پابندیوں کے بارے میں جاننے کے لئے اس ویب سائٹ کو وزٹ کیجئے۔
کروناوائرس ٹیسٹنگ اب آسٹریلیا بھر میں موجود ہے۔ اگر آپ میں نزلہ یا زکام جیسی علامات ہیں تو اپنے ڈاکٹر کو کال کرکے ٹیسٹ کرائیں یا پھر کرونا وائرس انفارمیشن ہاٹ لائن 080 180020 پر رابطہ کریں۔
وفاقی حکومت کی کروناوائرس ٹریسنگ ایپ کووڈسیف اب آپ کے فون پر ایپ اسٹور کے ذریعے دستیاب ہے۔
ایس بی ایس آسٹریلیا کی متنوع آبادی کو کووڈ ۱۹ سے متعلق پیش رفت کی آگاہی دینے کے لئے پرعزم ہے ۔ یہ معلومات تریسٹھ زبانوں میں دستیاب ہے۔
http://www.sbs.com.au/coronavirus



