آسٹریلیا کے جاسوسی تنظیم ایزیو کے سربراہ نے گزشتہ ہفتے ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ یہ آن لائن انتہاپسندی اور غلط اطلاعات کو نئی انتہاؤں تک لے جا سکتی ہے۔ غلط خبروں اور پُرتشدد بیانیوں کے پھیلاؤ کے متعلق بات کرتے ہوئے، روسی کارندوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ اس بڑھتے ہوئے خطرے نے ماہرین کو خبردار کیا کہ اگر اس کا مقابلہ نہ کیا گیا، تو "معلومات کی جنگ" کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
چیٹ جی پی ٹی جیسے بڑے لینگویج ماڈلز کا استعمال تیزی سے مقبول ہوتا جا رہا ہے، لیکن یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ کچھ مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹس نادانستہ طور پر غلط معلومات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ کارل ملر برطانیہ میں ڈیٰموس میں سینٹر فار دی اینالیسس فار سوشل میڈیا کے بانی ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز کیسے تربیت حاصل کرتے ہیں اور ان کے کیا اثرات ہے معاشرے پر اس بات کا گہرا اثر پڑتا ہے۔
گذشتہ ہفتے ایزیو کے ڈائریکٹر جنرل مائیک برجیس نے انکشاف کیا کہ آسٹریلیا میں روس نواز اثر و رسوخ رکھنے والوں نے ایجنسی کی توجہ حاصل کی ہے۔
کچھ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اے آئی چیٹ بوٹس پر بڑھتا ہوا انحصار میڈیا کی بہتر جانچ پڑتال اور قانون سازی کے ساتھ ساتھ غلط معلومات کو روکنے پر توجہ دینے کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
This story was produced in collaboration with SBS Audio and as part of a research trip hosted by the German Federal Foreign Office in cooperation with the National Press Club of Australia.





