جنوبی ایشیائی خواتین جو جہیز کے مطالبے کو گھریلو تشدد کے وفاقی قانون کا حصہ بنانے کی مہم چلا رہی ہیں

Domestic Violence

The image is for representation only. Source: Pixabay

ماہرِ نفسیات اور پروفیسر منجولا اوکونر نے اپنی ساتھیوں کے ساتھ جہیز کو گھریلو تشدد کی قسم قرار دئے جانے کی مہم چلائی جس کا اختتام وکٹوریہ میں قانون کی تبدیلی پر ہوا۔ 2017 میں آسٹریلیا میں جہیز کے غلط استعمال اور متعلقہ طریقوں پر سینیٹ کی سماعت کا آغاز ہوا۔ اُن کا سنٹر Australasian Centre for human rights and health (ACHRH) جہیز اور شادی پر تحائف کے مطالبوں کو بھی گھریلو تشدد قرار دئے جانے کے لئے اب وفاقی قوانین کو تبدیل کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔


مدد کیسے حاصل کریں؟

If you are in immediate danger, call 000

1800 Respect national helpline

Lifeline

(24-hour crisis line): 131 114

Indian (Sub-continent) Crisis & Support Agency

Email: info@isca.net.au


شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now