آسٹریلیا میں ریٹیل ڈکیتی اور چوری کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔آسٹریلیا کے محمکہ شماریات یا آسٹریلین بیرو آف اسٹیسٹکس مطابق آسٹریلیا میں ریٹیل ڈکیتی اور چوری کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں۔
وکٹوریہ میں چوریوں میں سب سے ذیادہ اضافہ ہوا ہے اس کے بعد تسمانیہ میں چوریوں میں اضافہ دیکھا گیا۔دوسری طرف اے سی ٹی اور ساؤتھ آسٹریلیا میں چوریوں کی شرح میں سب سے ذیادہ کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔
اے بی ایس کے حال ہی میں جاری کردہ اعداو و شمار کے مطابق 2024 میں ڈکیتی کے 11,496 متاثرین ریکارڈ کیے گئے اور تقریباً ایک تہائی وارداتیں سڑکوں یا فٹ پاتھ پر ہوئیں۔ ریٹیل مقامات پر چوری کی شرح جو 2010 میں 32 فیصد تھی بڑھ کر 2024 میں 45 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
آسٹریلین بیورو آف اسٹیٹسٹکس اے بی ایس کے پیپل اینڈ پلیس ڈویژن کے ایجوکیشن اینڈ کرائم برانچ کے پروگرام منیجر سمانتھا ہال نے ایس بی ایس اردو کو بتایا کہ "2024 میں چوری کے 595,660 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں دکانوں سے چوری اور جیب تراشی جیسے جرائم شامل ہیں، تاہم موٹر گاڑیوں کی چوری شامل نہیں۔ یہ شرح 2020 میں کووڈ-19 پابندیوں کے دوران کمی کے بعد مسلسل بڑھ رہی ہے۔"
وکٹوریہ میں چوریوں میں % 29 اضافہ ہوا جو پورے ملک میں چوریوں میں اضافے کی سب سے بڑی اضافی شرح ہے اس کے بعد تسمانیہ میں چوریوں میں %11 اضافہ دیکھا گیا۔اے بی ایس (ABS Data)
انہوں نے بتایا کہ "دکانوں سے کی جانے والی چوریاں 2010 میں تمام چوریوں کے 32 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 45 فیصد تک پہنچ گئیں، جبکہ رہائشی مقامات سے چوری کے واقعات اسی عرصے میں 30 فیصد سے کم ہو کر 25 فیصد رہ گئے۔"
پولیس کے مطابق 2024 میں موٹر گاڑیوں کی چوری کے واقعات میں بھی آٹھ فیصد اضافہ ہوا، جو 65,603 متاثرین تک پہنچ گئے۔

ریٹیل ڈکیتی اور گھریلو چوری کی بڑھتی شرح کے پس منظر پر جنوبی آسٹریلیا کے ریٹیل فارماسسٹ اور فارمیسیز کے مالک عرفان ہاشمی کا کہنا ہے، "اکثر یہ واقعات نسخوں کے بغیر ادویات، نشہ آور اشیاء کے لئے یا فوری نقدی کی تلاش میں کیے جاتے ہیں، اس لیے اگر خطرہ محسوس ہو تو جذباتی ردعمل کے بجائے اشیاء حوالے کر دینا بہتر ہے۔" وہ زور دیتے ہیں کہ ملازمین کو سیکیورٹی پروٹوکول پر مکمل عمل کی تربیت دی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں نقصان کم سے کم ہو۔
موجودہ حفاظتی اقدامات کے باوجود، بہت سے دکاندار انہیں ناکافی سمجھتے ہیں، خاص طور پر رات اور ویک اینڈ کے دوران۔ عرفان ہاشمی کے مطابق، "ان اوقات میں سیکیورٹی گارڈ کی موجودگی نہ صرف ایک نفسیاتی رکاوٹ بنتی ہے بلکہ ممکنہ مجرموں کو بھی روک دیتی ہے۔" وہ پولیس اور مقامی اتھارٹی سے قریبی تعاون، باقاعدہ گشت، اور دکانداروں کے ساتھ فوری رابطے کے نظام کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں تاکہ ریٹیل کاروبار کو محفوظ بنایا جا سکے۔

دکانداروں کے مطابق سب سے زیادہ نشانہ بننے والی اشیاء وہ ہیں جو آسانی سے بیچی جا سکتی ہیں جیسے دوائیں، نقدی اور چھوٹی الیکٹرانکس اشیا۔ عرفان ہاشمی مشورہ دیتے ہیں، "ایسے سامان کو محفوظ شیلف یا لاکڈ کیبنٹ میں رکھا جائے اور رات کی شفٹوں میں اسٹور کا داخلی راستہ محدود رکھا جائے۔" وہ کہتے ہیں کہ جدید سیکیورٹی ٹیکنالوجی جیسے ہائی ریزولوشن سی سی ٹی وی، الارم سسٹم اور ای-ٹیگنگ کے نفاذ کو لازمی بنایا جائے تاکہ جرائم کی نشاندہی آسان ہو سکے۔

نیوساؤتھ ویلز پولیس کرائم پریوینشن کمانڈر، ایکٹنگ سپرنٹنڈنٹ فل ہیلانان نے ایس بی ایس اردو کو تحفظ کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے گھروں اور کاروباروں کو مشورہ دیا کہ وہ اسٹاف کی تربیت، سی سی ٹی وی، اور سمارٹ اسٹور ڈیزائن کے ذریعے اپنی حفاظت کو بہتر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ڈاکا یا چوری ہو جائے تو فوراً 000 پر کال کریں، پرسکون رہیں اور پولیس کی رپورٹنگ ہدایات پر عمل کریں۔ Protect Your Business جیسے پروگرام ریٹیلرز کو جرائم سے بچاؤ اور اپ ڈیٹ رہنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
وکٹوریہ پولیس کی طرف سے ایس بی یس کے سوالات کا جواب موصول نہیں ہوا۔
موجودہ حفاظتی اقدامات کے باوجود، بہت سے دکاندار انہیں ناکافی سمجھتے ہیں، خاص طور پر رات اور ویک اینڈ کے دوران۔ عرفان ہاشمی کے مطابق، "ان اوقات میں سیکیورٹی گارڈ کی موجودگی نہ صرف ایک نفسیاتی رکاوٹ بنتی ہے بلکہ ممکنہ مجرموں کو بھی روک دیتی ہے۔" وہ پولیس اور مقامی اتھارٹی سے قریبی تعاون، باقاعدہ گشت، اور دکانداروں کے ساتھ فوری رابطے کے نظام کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں تاکہ ریٹیل کاروبار کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ڈکیتی
آسٹریلیا میں 2024 کے دوران ڈکیتی کے 11,496 متاثرین ریکارڈ کیے گئے۔
افراد پر ڈکیتی کے متاثرین میں:
زیادہ تر (74 فیصد) مرد تھے (7,487 متاثرین)
- ایک چوتھائی سے زیادہ (28 فیصد) کی عمر 10 سے 17 سال کے درمیان تھی (2,849 متاثرین)
- تقریباً ایک تہائی ڈکیتیاں (30 فیصد) سڑک یا فٹ پاتھ پر ہوئیں (3,456 متاثرین)
موٹر گاڑیوں کی چوری
آسٹریلیا میں 2024 کے دوران موٹر گاڑیوں کی چوری کے 65,603 متاثرین ریکارڈ کیے گئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 8 فیصد (4,604 متاثرین) زیادہ تھے۔
اگرچہ زیادہ تر ریاستوں اور خطوں میں موٹر گاڑیوں کی چوری کے متاثرین کی تعداد کم ہوئی، لیکن وکٹوریا اور نیو ساؤتھ ویلز میں بالترتیب 41 فیصد اور 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دیگر چوریاں
2024 میں دیگر اقسام کی چوری کے 595,660 متاثرین ریکارڈ کیے گئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 6 فیصد (34,706 متاثرین) زیادہ تھے۔ یہ 2003 کے بعد سے متاثرین کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ تعداد تھی۔
(Source: Australian Bureau of Statistics)
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔





