28 اپریل 1996 کو تسمانیہ کے شہر پورٹ آرتھر، میں فائرنگ کے واقعے میں 35 افراد کی ہلاکت نے پورے آسٹریلیا کو ہلا کر رکھ دیا جس کے بعد جان ہاروڈ کی حکومت نے اسلحے کے کنٹرول کے نئے قوانیں متعارف کروائے۔ اس واقعے کو لگ بھگ 30 سال ہو چکے ہیں۔ پورٹ آرتھر کےاس سانحے کے بعد نصف ملین سے زائد ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر واپسی اور اسلحہ رکھنے سے متعلق دیگر اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔ تب سےآسٹریلیا میں تقریباً 30 سال بعد تک اس پیمانے کی کوئی اجتماعی فائرنگ نہیں دیکھی گئی مگر دسمبر میں بونڈائی میں حملہ ہوا، جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے۔مگر بونڈائی حملےنے اسلحہ کنٹرول کی بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ۔
کے ایک نئے مرحلے کی تجاویز سامنے آئیں۔ کنٹرول کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کمیونٹی میں اسلحے کی تعداد محدود کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ اسلحے کے کنٹرول مخالف گروپس کا کہنا ہے اصلاحات غیر منصفانہ اور فوری ردعمل ہیں۔
دسمبر 2022 میں آسٹریلیا میں اسلحے کی اندراج سے متعلق ایک نیشنل فائر آرمز رجسٹر کے قیام کا مطالبہ ابھر کر سامنے آیا تھا۔اب حکومت نے اس حوالے سے عملی اقدامات کا اشارہ دیا ہے۔



