پورٹ آرتھر سانحے کے30 سال: کیا آسٹریلیا میں اسلحہ کنٹرول کے حوالے سے کافی اقدامات کئےجا رہے ہیں؟

Floral tributes in the Memorial Pool in 2016 in Port Arthur, Tasmania

Floral tributes in the Memorial Pool in 2016 in Port Arthur, Tasmania Source: Getty / Getty Images

28 اپریل 1996 کو تسمانیہ کے شہر پورٹ آرتھر میں فائرنگ کے واقعے میں 35 افراد کی ہلاکت نے پورے آسٹریلیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا جس کے بعد جان ہارورڈ کی اس وقت کی حکومت نے اسلحے کے کنٹرول کے نئے قوانیں متعارف کروائے۔ اس واقعے کے لگ بھگ 30 سال بعد دسمبر میں بونڈائی حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے۔جس نے اسلحہ کنٹرول کی بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ۔ اسلحہ کنٹرول کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کمیونٹی میں اسلحے کی تعداد محدود کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے مگر کنٹرول مخالف گروپس کا کہنا ہے اصلاحات غیر منصفانہ ، غیر ضروری اور فوری ردعمل ہیں۔


28 اپریل 1996 کو تسمانیہ کے شہر پورٹ آرتھر، میں فائرنگ کے واقعے میں 35 افراد کی ہلاکت نے پورے آسٹریلیا کو ہلا کر رکھ دیا جس کے بعد جان ہاروڈ کی حکومت نے اسلحے کے کنٹرول کے نئے قوانیں متعارف کروائے۔ اس واقعے کو لگ بھگ 30 سال ہو چکے ہیں۔ پورٹ آرتھر کےاس سانحے کے بعد نصف ملین سے زائد ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر واپسی اور اسلحہ رکھنے سے متعلق دیگر اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔ تب سےآسٹریلیا میں تقریباً 30 سال بعد تک اس پیمانے کی کوئی اجتماعی فائرنگ نہیں دیکھی گئی مگر دسمبر میں بونڈائی میں حملہ ہوا، جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے۔مگر بونڈائی حملےنے اسلحہ کنٹرول کی بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ۔

کے ایک نئے مرحلے کی تجاویز سامنے آئیں۔ کنٹرول کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کمیونٹی میں اسلحے کی تعداد محدود کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ اسلحے کے کنٹرول مخالف گروپس کا کہنا ہے اصلاحات غیر منصفانہ اور فوری ردعمل ہیں۔

دسمبر 2022 میں آسٹریلیا میں اسلحے کی اندراج سے متعلق ایک نیشنل فائر آرمز رجسٹر کے قیام کا مطالبہ ابھر کر سامنے آیا تھا۔اب حکومت نے اس حوالے سے عملی اقدامات کا اشارہ دیا ہے۔

____
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں
SBS Audio” کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now