پاکستان کے وزیر اعظم نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل ممالک کے مذاکرات کاروں کو جمعہ [[10 اپریل]] کو ملاقات کے لیے اسلام آباد مدعو کیا ہے تاکہ لڑائی کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں۔ جو لوگ دعوت قبول کریں گے وہ امریکہ اور ایران کے ساتھ مل کر امن کے لیے شرائط طے کریں گے، جن کے بارے میں شہباز شریف کے مطابق انہوں نے عارضی وقفے کی تجویز قبول کر کے "غیر معمولی دانش" کا مظاہرہ کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر بمباری کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے - یہ اعلان اس وقت سامنے آہا ہے جب امریی صدر کی جانب سے تہران کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا اس کے شہری انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر حملوں کا سامنا کرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں دو گھنٹے سے بھی کم وقت رہ گیا تھا
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں، انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے بات کرنے کے بعد کیا، جنہوں نے پندرہ دن کی جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔
دریں اثنا، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ دو ہفتے کی جنگ بندی کو بھی قبول کرتا ہے اور جمعے سے شروع ہونے والےمذاکرات میں امریکہ کے ساتھ بات چیت کرے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت اگلے پندرہ دن تک ایرانی فوج کے انتظام میں دی جائے گی۔





