ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا جانے والے بحری جہازوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ اسے کیسے انجام دیا جائے گا۔
پاکستان میں ویک اینڈ پر ہونے والے امن مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہنے کے بعد دونوں فریقین ناکامی کے لئے ایک دوسرے مورد الزام ٹہرا رہے ہیں ۔
21 گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ بات چیت ایک دہائی سے زائد عرصے میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات تھی اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اعلیٰ ترین سطح کی بات چیت تھی۔
ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ یہ مایوس کن نہیں ہے کہ پاکستان میں امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ایران دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔
آسٹریلین حکومت کہتی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز بھیجنے پر غور نہیں کر رہی،جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دیگر ممالک بھی امریکی ناکہ بندی میں شامل ہوں گے۔
وزیر اعظم انتھونی البانیزی کا کہنا ہے کہ آسٹریلین حکومت کو ابھی تک امریکی ناکہ بندی میں مدد کے لیے باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔
ماحولیات کے وزیر مرے واٹ کہتے ہیں کہ لڑائی ختم کرنے کے لیے سفارت کاری اور پرامن ذرائع کا استعمال ضروری ہے۔



