معذوری کے حامی این ڈی آئی ایس [[نیشنل ڈس ایبلٹی انشورنس اسکیم]] میں وفاقی بجٹ کی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جس میں 2030 تک 160,000 سے زیادہ شرکاء تک رسائی کو کم کرنا شامل ہے، جبکہ آسٹریلیا میں پہلے سے مقیم ہنر مند تارکین وطن وفاقی بجٹ میں پیش کیے گئے ملک کے ہجرت پروگرام میں تبدیلیوں سے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔
185 ہزار مستقل ہجرت کی جگہوں میں سے 70 فیصد سے زیادہ ہنر مند کارکنوں کو دی جائیں گی، اور پہلے سے موجود تارکین وطن ان ویزوں کا دو تہائی سے زیادہ حصہ لینے کی توقع ہے۔
صرف 55,000 نشستیں آف شور ماہر درخواست دہندگان کے لیے مخصوص ہوں گی۔
بجٹ کے کاغذات کے مطابق یہ تبدیلیاں خالص بیرون ملک ہجرت کو کم کرنے کے لیے کی گئی ہیں، جبکہ نظرثانی شدہ پوائنٹس ٹیسٹ نوجوان، اعلیٰ ہنر مند اور بہتر تعلیم یافتہ تارکین وطن کے حق میں ہوگا۔
وفاقی بجٹ اس سال [[2025-26]] کے لیے بیرون ملک ہجرت کی خالص تعداد کی تصدیق کرتا ہے جو پچھلے سال کے بجٹ کی پیش گوئی سے 295,000 سے 35,000 زیادہ ہوگا۔
نیو ساؤتھ ویلز کے ٹریثرر ڈینیئل موکی [[مو-کی]] کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر مایوس ہیں کہ نیو ساؤتھ ویلز کو وفاقی بجٹ سے دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کم انفراسٹرکچر فنڈنگ مل رہی ہے۔
ریاستی انفراسٹرکچر میں وفاقی حکومت کی سرمایہ کاری نیو ساؤتھ ویلز کو کوئنز لینڈ، ویسٹرن آسٹریلیا اور جنوبی آسٹریلیا کے مقابلے میں فی شخص کم روڈ فنڈنگ کے فراہم کرپائےگی ۔
ٹریژرر موکھی کہتے ہیں کہ نیو ساؤتھ ویلز کو دولت مشترکہ کے بنیادی ڈھانچے کی فنڈنگ کا سب سے کم فی کس حصہ فارورڈ تخمینوں کے مقابلے میں ملے گا، جبکہ ریاست وکٹوریہ میلبورن کے مضافاتی ریل لوپ سمیت منصوبوں کے لیے اربوں مزید محفوظ کررہی ہے۔





