پولیس نے بونڈائی بیچ پر اتوار کے روز ہونے والی فائرنگ کو دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے، یاد رہے کچھ میڈیا رپورٹیں ایک گمنام سینئر قانون نافذ کرنے والے افسر کا حوالہ دیتے ہوئے ایک حملہ آور کا نام ظاہر کر رہی ہیں، حالانکہ نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ جبکہ دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے بھی حملہ آوروں کی کوئی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
پاکستانی نژاد نوید اکرم جنہیں غلط طور پر بونڈائی بیچ حملے کے ایک حملہ آور کے طور پر شناخت کیا گیا کہتے ہیں کہ وہ اس پورے معاملے سے پریشانی محسوس کر رہے ہیں۔
نوید اکرم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال جو کسی شخص کو غلط طور پر شناخت کئے جانے سے پیدا ہو کسی کو زندگی کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے ۔
دوسری جانب یہ واقعہ عالمی سطح پر مذمت کا سبب بنا، یہودی مقامات پر سیکیورٹی کو سخت کیا گیا، برادریوں میں خوف بڑھا اور رہنماؤں کی جانب سے نفرت کو ختم کرنے اور یہودی برادری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کی نئی اپیلیں کی گئیں۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البینیزی نے ان افراد کی تعریف کی ہے جنہوں نے حملے کا جواب دینے میں تیزی دکھائی ساتھ ہی انہوں نے ایک شہری کی جانب سے ایک حملہ آور کو غیر مسلح کئے جانے کے جراتمندانہ اقدام کو بھی سراہا ہے۔
آسٹریلیا کے مفتی اعظم کا کہنا ہے کہ بونڈائی بیچ دہشت گردانہ حملے نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، آسٹریلیا کے باشندوں پر زور دیا ہے کہ وہ تقسیم کے بجائے اتحاد کے ساتھ جواب دیں۔





