ہمارے ساتھ ہیں آروش احمد، جو آسٹریلیا میں پیدا ہوئیں، لیکن ان کی اردو زبان پر گرفت آپ کو حیران کر دے گی—اور ان کی والدہ حُما شامی، جنہوں نے گھر کے ماحول کو اس انداز سے پروان چڑھایا کہ زبان صرف بولی ہی نہیں گئی بلکہ محسوس بھی کی گئی۔
یہ ماں بیٹی مل کر اردو کہانیاں پڑھتی ہیں، روزمرہ گفتگو میں اردو کو زندہ رکھتی ہیں، اور حال ہی میں اپنے پہلے دورۂ پاکستان کے دوران آروش نے جس روانی سے اردو بولی، اس نے سب کو متاثر کر دیا۔
آج ہم جانیں گے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ گھر کے چھوٹے چھوٹے معمولات کیسے ایک بڑی شناخت کی بنیاد بن سکتے ہیں؟ اور وہ کون سی عملی سرگرمیاں ہیں جو بیرونِ ملک پلنے والے بچوں کو اپنی زبان اور ثقافت سے جوڑے رکھ سکتی ہیں۔



