22 اپریل بروز بدھ کی اردو خبروں کے ساتھ
میں ہوں ریحان نبی。 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کی درخواست پر
ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر رہا ہے
مگر فوجی تیاریوں کے ساتھ ایرانی بندرگاہوں
کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ جنگ بندی کی
کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی ہے۔ دوسری
طرف ایران نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف
ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی پارلیمان
کے رکن نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ
مذاکرات غیر دانشمندانہ اور غیر منطقی ہیں۔
اس سے پہلے قالیباف کے ایک معاون نے جنگ
بندی میں توسیع کو امریکہ کی جانب سے اچانک
حملے کے لیے وقت حاصل کرنے کی ایک چال قرار
aggression towards maritime shipping and
trading is a dangerous violation because
if this becomes common, basically maritime
freedom will be in danger. Both things
America has done are examples of piracy
and state terrorism.
پاکستان نے جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم
کرتے ہوئے مذاکرات کے اگلے دور کی امید ظاہر
کی ہے۔ جبکہ نائب صدر جے ڈی وینز کا دورہ
اسلام آباد منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایران نے
خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں
نے اپنی سرزمین سے امریکی حملوں کی اجازت دی
تو ان کی تیل کی پیداوار کو بھی خطرات لاحق
ہوں گے۔ دوسری طرف یورپی یونین نے جہاز
رانی میں خلل ڈالنے والوں پر مزید پابندیوں
کا عندیہ دیا ہے۔ لبنان کے مسلح گروہ حزب
اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل پر
راکٹ اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فوج
پر امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی
خلاف ورزی کا الزام بھی حزب اللہ نے عائد
کیا ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دس
روزہ جنگ بندی گزشتہ جمعرات سے نافذ ہے۔
تاہم اسرائیلی افواج اب بھی سرحد کے ساتھ
لبنانی علاقے میں پانچ سے دس کلومیٹر اندر
تک موجود ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ
شمالی علاقوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے
کے لیے بفر زون قائم کرنا چاہتی ہے۔
آسٹریلیا کی وفاقی حکومت نے آسٹریلین
کمپنیوں کے لیے ڈیزل کی مزید فراہمی یقینی
بنائی ہے۔ وزیراعظم اینتھونی البنیز کا کہنا
ہے کہ حکومت جنوبی کوریا، برونائی اور
ملائیشیا سے چار اضافی کھیپوں کی ضمانت حاصل
کر رہی ہے، جس سے بیس کروڑ لیٹر، ایک ہفتہ
قبل مزید دس کروڑ لیٹر ڈیزل بھی حاصل کیا
گیا تھا۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت
مشرقی اوستیا کے تنازعہ سے پیدا ہونے والے
ایندھن کے بحران کے اثرات سے آسٹریلیائی
عوام کو بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے
گی۔ مسٹر البنیز نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے
کے لیے بین الاقوامی آسٹریلیا کی طرف سے
-بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
-with like minded countries who want to see
an end to the conflict, but also want to
discuss how we resolve this post-conflict,
such as the sea mines that are in the
strait, the welfare of the seafarers, and
how we get repair to infrastructure which
has been damaged.
آسٹریلین گرینز نے گیس کی برآمدات پر ٹیکس
عائد کرنے کے اپنے مطالبے کو دہرایا ہے،
جبکہ سینیٹ کی سماعت میں گیس کمپنیوں کے
نمائندے پیش ہونے والے ہیں۔ گرینز کے ترجمان
کا کہنا ہے کہ پچیس فیصد ٹیکس کی عوامی
حمایت موجود ہے اور اس پر کارروائی نہ کرنے
کے سیاسی نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گیس
کمپنیاں عوام کا اعتماد کھو چکی ہیں۔ وفاقی
حکومت نے اپنا فیصلہ بدلتے ہوئے کہا ہے کہ
بزرگ افراد کو نہانے اور لباس بدلنے جیسی
خدمات کے لیے اضافی فیس ادا نہیں کرنا ہو
گی۔ متوقع طور پر وزیر صحت مارک بٹلر آج ان
تبدیلیوں کا اعلان کریں گے، جس کا مقصد NDIS
کے بڑھتے ہوئے اخراجات میں کٹوتی کرنا ہے۔
یہیں پر اب تک کی خبریں ختم ہوئیں، تازہ
ترین اپ ڈیٹس کے لیے sbs.com.au/urdoo پر
جائیے میں ہوں۔ ریحان نبی اور آپ ہیں SBS
اردو کے ساتھ。
END OF TRANSCRIPT