عالمی یومِ ریڈیو ہر سال 13 فروری کو منایا جاتا ہے، 1946 میں اقوامِ متحدہ نے ریڈیو کے قیام کی سالگرہ منانا شروع کی۔ 1890 کی دہائی کے وسط میں مارکونی نے ریڈیو ایجاد کیا اور اس سال 2026 میں ریڈیو کی عمر 130 سال سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پہلا لائسنس یافتہ کمرشل ریڈیو براڈکاسٹ 1920 میں ہوا۔
آسٹریلیا میں ریڈیو کے سفر کے دوران SBS ریڈیو نے ایک منفرد اور دیرپا کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ 50 برسوں میں SBS نے ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کیا ہے جو ملک کی کثیرالثقافتی شناخت کی عکاسی کرتا ہے، درجنوں زبانوں میں نشریات پیش کرتا ہے اور سامعین تک اُن کی اپنی زبان میں پہنچتا ہے۔ بہت سے مہاجرین کے لیے SBS ریڈیو خبروں کا ایک معتبر ذریعہ اور ایک مانوس آواز رہا ہے، جو اُن کے تجربات سے ہم آہنگ نقطۂ نظر اور آوازیں پیش کرتا ہے۔

اردو بولنے والے سامعین کے لیے ریڈیو ہمیشہ محض معلومات کا ذریعہ نہیں رہا۔ ایک حالیہ براہِ راست پروگرام کے دوران ہمیں ایک سامع کی جانب سے یہ پیغام موصول ہوا:
“میں روزانہ SBS اردو سنتا ہوں۔ یہ پروگرام ہمیں نہ صرف آسٹریلیا کی خبریں ہماری اپنی زبان میں دیتا ہے بلکہ گھر کی یاد بھی تازہ کر دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اپنا ہم سے بات کر رہا ہو۔”

یہ پیغام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریڈیو بہت سے سامعین کے لیے حقیقتاً کیا معنی رکھتا ہے۔ یہ ایک سہارا ہے جو لوگوں کو آسٹریلیا اور دنیا بھر کی خبروں سے جوڑتا ہے، اور ساتھ ہی زبان، شاعری، موسیقی اور کمیونٹی مکالمے کے ذریعے ثقافتی گفتگو کو زندہ رکھتا ہے۔ خاص طور پر پہلی نسل کے مہاجرین کے لیے، اردو ریڈیو وطن سے جذباتی فاصلے کو کم کرنے اور نئے ملک میں وابستگی کے احساس کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
جیسے جیسے SBS اپنے 50 سال مکمل کر رہا ہے، عالمی یومِ ریڈیو ہمیں بروقت یاد دلاتا ہے کہ ریڈیو آج بھی اہم ہے۔ یہ بدستور قابلِ رسائی، قربت بھرا اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ چاہے یہ گاڑیوں میں سنا جائے، گھروں کی باورچی خانوں میں، کام کی جگہوں پر یا موبائل فون کے ذریعے، ریڈیو زبانوں، نسلوں اور سرحدوں کے پار کمیونٹیز کو جوڑتا رہتا ہے۔

تیزی سے بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے میں، ریڈیو کی سب سے بڑی طاقت اس کی انسانی آواز ہے۔ اور SBS اردو کے سامعین کے لیے، یہ آواز آج بھی ہمیں باخبر رکھتی ہے، جوڑتی ہے، اور ہماری شناخت کی عکاسی کرتی ہے—کل بھی، آج بھی، اور آنے والے وقت میں بھی۔
اس پوڈ کاسٹ کی ویڈیو ہمارے فیس بک اور انسٹا گرام پر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔



