زینیاعمران کا آرٹ ورک:حجاب اور چادر میں عورت کی خودمختاری کی کہانی

43dde90a-4f31-4a74-9c1a-f060e96b7f8f.jpg

Source: Supplied / Zeenya Imran

ویسٹرن آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی آرٹسٹ زینیا عمران اپنے فن کے ذریعے یہ پیغام دیتی ہیں کہ آسٹریلیا جیسے ملک میں رہتے ہوئے لڑکیاں اپنی روایات کے ساتھ طاقت یا شناخت حاصل کر سکتی ہیں اور باوقار رہتے ہوئے بھی مضبوط، دلیر اور بااختیار بن سکتی ہے۔ ان کے فن پارے میں عورت کا چہرہ مصور کا اپنا ہے، جو مذہب اور ثقافت پر ذاتی اور براہِ راست تبصرہ کرتا ہے۔سنئے ان کی باتیں اس پوڈ کاسٹ میں۔


زینیاعمران کے والد محمد عمران خان کہتے ہے کہ ہم نے اپنا گھر بنایا تو ہم نے خاص طور پر دیواروں پر پینٹ نہیں کیا، تاکہ

بچے اپنی تخلیقی صلاحیت کے مطابق گھر کو اپنی مرضی سے رنگیں اور ڈیزائن کریں۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ صرف رنگ بھرنے یا ڈرائنگ کرنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ اپنے خیالات اور جذبات کو آزادانہ طور پر کینوس یا دیواروں پر منتقل کریں۔ ہم نے یہ دیکھا کہ جب بچے اپنی مرضی کے مطابق تخلیقی کام کرتے ہیں تو ان میں اعتماد، خوشی اور ذاتی آزادی پیدا ہوتی ہے۔

آج کل کے دور میں، بچے موبائل، ٹی وی اور دیگر اسکرینز پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، جو ان کے اندر موجود تخیل اور خوداظہاری کو محدود کر دیتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ اگر بچوں کو تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول رکھا جائے تو وہ اپنی سوچ، تخیل اور تخلیقی صلاحیت کو بہتر طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف ان کے دماغ کو فعال رکھتا ہے بلکہ ان میں

مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، صبر اور توجہ مرکوز کرنے کی عادت بھی پیدا کرتا ہے۔

جب بچے اپنی مرضی سے رنگ بھرتے ہیں، شکلیں ڈالتے ہیں یا کہانیاں تصویروں میں بیان کرتے ہیں، تو وہ یہ سیکھتے ہیں کہ ان کے خیالات اور تصورات اہم ہیں اور ان کی قدر کی جاتی ہے۔ یہ ایک طرح کی ذاتی شناخت اور خوداعتمادی پیدا کرتا ہے، جو زندگی کے ہر شعبے میں ان کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ہمارا مقصد یہ ہے کہ بچے اپنی تخلیقی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف مضبوط اور بااعتماد بنیں، بلکہ اپنی ثقافت اور مذہب کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی شخصیت کو بھی نکھار سکیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ سمجھیں کہ تخلیقی اظہار صرف ایک سرگرمی نہیں، بلکہ ایک طاقتور طریقہ ہے اپنی شناخت، وقار اور خودمختاری کو مضبوط کرنے کا۔

یہی وجہ ہے کہ زینیا بھی اپنے فن میں یہ پیغام دیتی ہیں کہ عورت کو طاقت یا شناخت حاصل کرنے کے لیے خود کو بے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ باحیا اور باوقار رہتے ہوئے بھی وہ مضبوط، دلیر اور بااختیار بن سکتی ہے۔

ویسٹرن آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی کم عمر آرٹسٹ زینیا عمران اپنے فن کے ذریعے یہ پیغام دیتی ہیں کہ عورت کو طاقت یا شناخت حاصل کرنے کے لیے خود کو بے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ باحیا اور باوقار رہتے ہوئے بھی مضبوط، دلیر اور بااختیار بن سکتی ہے۔ ان کے فن پارے میں عورت کا چہرہ مصور کا اپنا ہے، جو مذہب اور ثقافت پر ذاتی اور براہِ راست تبصرہ پیش کرتا ہے۔ حجاب اور بہتی ہوئی چادر آزادی، لطافت اور خودمختاری کی علامت ہیں، جو عورت کی ثقافتی شناخت اور -

طاقتور کردار کو نئے زاویے سے اجاگر کرتی ہیں

___________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now