- امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کا ایران میں آپریشن منصوبے سے آگے ہے اور ان کے مقاصد چند ہفتوں میں حاصل ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق صدر کے پاس متعدد اختیارات موجود ہیں، اور وزارت دفاع دیگر ممکنہ حالات کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔ امریکی صدر نے پہلے یہ اشارہ دیا تھا کہ امریکہ کے فوجی ایران کے تیل کے مرکز پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ وہ بار بار یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ سفارتی پیش رفت ہو رہی ہے، جبکہ ایران کے خلاف دھمکیاں بھی بڑھا رہے ہیں۔
- پچھلے 24 گھنٹوں میں لبنان میں تین اقوام متحدہ کے امن دستے ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ تینوں اہلکار انڈونیشیا کی فوج سے تعلق رکھتے تھے۔ امن مشن کے مطابق دو اہلکار ایک نامعلوم دھماکے میں ہلاک ہوئے جب ان کی گاڑی تباہ ہوئی، جبکہ تیسرا اہلکار ایک کیمپ پر حملے میں مارا گیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق یہ حملے الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ اسرائیلی فوج کی طرف سے امن دستوں پر مسلسل ہراسانی جاری ہے۔
- کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز پر اضافی چارجز ختم کر دیے گئے ہیں، اور یہ اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔ بینک کی نئی پالیسی کے تحت کاروباری کلائنٹس اضافی چارجز عائد نہیں کر سکیں گے۔ یہ اقدام گھریلو صارفین پر مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ صارفین کو سالانہ 1.6 بلین ڈالر بچت ہوگی، جبکہ چھوٹے کاروبار تقریباً 910 ملین ڈالر سالانہ بچا سکیں گے۔ وفاقی خزانچی کے مطابق یہ اصلاحات اخراجات کم کریں گی اور شفافیت میں اضافہ کریں گی۔
- وفاقی حکومت کا فیول ایکسائز ٹیکس آدھا کرنے کا اقدام کل سے نافذ ہو رہا ہے، مگر وزیر توانائی نے خبردار کیا ہے کہ صارفین کو قیمتوں میں فوری کمی ہفتے کے آخر تک نہیں دیکھنے کو ملے گی۔ یہ اقدام جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ممکنہ فیول بحران کے خدشات کے جواب میں اعلان کیا گیا۔ وزیر توانائی کے مطابق صارفین نے موجودہ پٹرول کی سپلائی پر پہلے ہی ٹیکس ادا کر دیا ہے، لیکن نگرانی کی جائے گی کہ ٹیکس میں کمی صارفین تک پہنچے۔
- آج متوقع ہے کہ آسٹریلیا اور یورپی یونین کا آزاد تجارتی معاہدہ جاری ہوگا، لیکن نیشنل پارٹی نے اس کی اشاعت میں تاخیر کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پارٹی کے رہنما کے مطابق آسٹریلیا کو دوبارہ مذاکراتی میز پر جانا چاہیے اور مقامی کسانوں کے لیے بہتر معاہدہ حاصل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ زرعی شعبے کی حمایت حاصل نہیں کرتا۔
- کیوبا نے روسی تیل کی ممکنہ آمد کا محتاط استقبال کیا، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ملک کے توانائی بحران میں زیادہ فرق نہیں ڈالے گا، جو امریکی تیل کی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہوا۔ روس کے ایک ٹینکر میں 730,000 بیرل خام تیل ہے اور یہ پہلا تیل کا قسط ہے جو جنوری کے بعد کیوبا پہنچے گا۔ اس فیصلے سے روس کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچا گیا اور کیوبا کو ممکنہ ریلیف فراہم ہوا۔
_________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے




