نقل و حمل کے ذرائع محدود اور فلائیٹس کے معطل ہونے کے باعث پاکستانی طلباء اٹلی میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں- اس سلسلے میں ایک پاکستانی طالبعلم مہروز کیانی نے ایس بی ایس سے بات کرتے ہوئے صورتحال کے بارے میں بتایا ہے-
عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کو اس وقت عالمی وبا کا درجہ دیا گیا ہے- جہاں اس وبا سے متاثرہ ممالک میں چین سرِ فہرست تھا وہیں اٹلی اور ایران میں یہ وبا تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے-
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی مطابق ایک ٦۵ سالہ پاکستانی شخص کی اٹلی کے شہر میلان میں کرونا وائرس سے ہلاکت ہوئی ہے-
اٹلی میں پاکستانی طالبعلم مہروز کیانی کا کہنا ہے کہ حالات اب نیم کرفیو جیسے ہیں- اٹلی کے کم متاثرہ علاقے میں ہونے کے باوجود اس وقت وہاں پر بھی دکانیں بند ہیں-
بین الاقوامی طلباء کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ بیشتر ان میں سے گھر جا چکے ہیں اور جامعات میں تدریس کا عمل روک دیا گیا ہے-
پاکستانی طلباء کی تنظیم فعال نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ صرف فون تک ہی محدود ہے- جبکہ ان کے مطابق پاکستان ایمبیسی یا ہائی کمیشن کی جانب سے بھی کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا-
دوسری جانب پاکستان قونصلیٹ میلان نے کرونا کے پیشِ نظر اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں-

وطن واپسی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اتحاد ائیر لائنز آخری فلائیٹ تھی اور اس کے بعد سے وہ محصور ہو کر رہ گئے ہیں-
علاقے کا آخری سپر سٹور بھی بند ہو چکا ہے اور اب وہ اپنے پاس ذخیرہ کیے گئے راشن پر گزارہ کر رہے ہیں-

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زائد لوگ دنیا میں اس سے متاثر ہو چکے ہیں- جن میں سے چار ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں-





![[JPG]_How-Australia-Works_Ep1.jpg](https://assets.sbs.com.au/dims4/default/d1d4da1/2147483647/strip/true/crop/3200x1800+0+0/resize/1280x720!/quality/90/?url=https%3A%2F%2Fsbs-au-brightspot.s3.ap-southeast-2.amazonaws.com%2Fe9%2F46%2F56cf4ff54074a36476e0bcb73e13%2Fjpg-how-australia-works-ep1.jpg&imwidth=1280)