ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے کیش ریٹ میں 0.25 فیصد اضافہ کر کے اسے 4.60 فیصد کر دیا ہے، جو نومبر 2011 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر سمیرا عباسی بتاتی ہیں کہ اضافے کی وجوہات کیا ہیں اور مارگیج ادا کرنے والے گھرانوں، کرایہ داروں اور کاروباروں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔
ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے کیش ریٹ 4.60 فیصد کر دیا ہے، جو نومبر 2011 کے بعد یعنی 15 سال میں شرح سود کی بلند ترین سطح ہے۔ ڈاکٹر سمیرا عباسی کے مطابق معیشت میں طلب زیادہ اور رسد کم ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کے تنازع سے ایندھن اور توانائی کے اخراجات بڑھنے کے باعث مہنگائی بلند ہے، اسی لیے ریزرو بینک شرح سود کو مہنگائی کم کرنے کا ذریعہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارگیج ادا کرنے والے گھرانوں کی ڈسپوزیبل انکم کم ہو گی، کاروبار سرمایہ کاری گھٹائیں گے اور کرایہ دار بھی متاثر ہوں گے، کیونکہ مالک مکان بڑھی ہوئی قسطوں کا بوجھ کرایوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔ کچھ مالیاتی اداروں کا اندازہ ہے کہ کیش ریٹ 4.8 فیصد کے قریب تک جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عباسی کے مطابق مہنگائی میں کمی کا فائدہ دو تین سال بعد نظر آ سکتا ہے، مگر مختصر مدت میں معاشی نمو سست ہونے اور بے روزگاری بڑھنے کا خطرہ ہے، خاص طور پر ان گھرانوں کے لیے جو پہلے ہی بھاری قرضوں کے بوجھ تلے ہیں۔





