Key Points
- آسٹریلیا نابالغ نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کر رہا ہے جو 16 سال کی عمر سے کم ہیں، یہ قوانین 10 دسمبر 2025 سے نافذ العمل ہوں گے۔
- سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری ہوگی، نہ کہ والدین کی، کہ وہ عمر کے چیک کے اطلاق کو یقینی بنائیں۔
- کھل کر بات چیت بچوں کو ان تبدیلیوں کے جذباتی اثرات سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔
- والدین نوجوانوں کی مدد کے لیے متبادل راستے تلاش کر سکتے ہیں تاکہ وہ رابطے میں رہ سکیں اور انہیں اکاؤنٹ میں ہونے والے ممکنہ تبدیلیوں کے لیے تیار کریں۔
- نئے اصول کیا ہیں اور میں اپ ڈیٹس کہاں سے حاصل کر سکتا ہوں؟
- میں اپنے بچے سے تبدیلیوں کے بارے میں کیسے بات کر سکتا ہوں؟
- میرا بچہ کیسے معاشرے سے رابطہ قائم رکھ سکتا ہے؟
- اگر میرا بچہ تنہائی محسوس کرتا ہے تو میں کس طرح مدد کروں؟
- اکاؤنٹس بند ہونے سے پہلے مجھے کون سے عملی اقدامات کرنے چاہئیں؟
- پابندی شروع ہونے کے بعد مجھے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
نئے اصول کیا ہیں اور میں اپ ڈیٹس کہاں سے حاصل کر سکتا ہوں؟
سوشل میڈیا کمپنیوں پر یہ لازم ہوگا کہ وہ 16 سال سے کم عمر افراد کو اپنے پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس بنانے سے روکنے کے لئے معقول اقدامات کریں۔ ٹِک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک، کِک، ریڈڈیٹ، تھریڈز، ٹوئچ، ایکس اور یوٹیوب پہلے ہی اس فہرست میں شامل ہیں، اور مزید پلیٹ فارمز شامل ہو سکتے ہیں۔
ای سیفٹی کمشنر، جو ان پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں 16 سال سے کم عمر افراد کو ان دباؤ اور خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے کی جا رہی ہیں جن سے وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں لاگ ان رہتے ہوئے سامنا کر سکتے ہیں۔

کمپنیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صارف کی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے عمر کی یقین دہانی کی ٹیکنالوجی استعمال کریں۔ نوجوان اب بھی کچھ پلیٹ فارمز، جیسے یو ٹیوب اور ٹک ٹاک پر عوامی طور پر دستیاب مواد دیکھ سکیں گے۔
ذمہ داری خود پلیٹ فارمز پر آتی ہے۔ اگر سولہ سال سے کم عمرکے بچے کا اکاؤنٹ پابندی شروع ہونے کی تاریخ کے بعد بھی موجود ہے تو والدین یا بچوں کے لیے کوئی جرمانہ نہیں ہے۔
آپ ای سیفٹی کمشنر کی ویب سائٹ پر اس فہرست میں شامل پلیٹ فارمز اور تازہ ترین معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
میں اپنے بچے سے تبدیلیوں کے بارے میں کیسے بات کر سکتا ہوں؟
اگرچہ نوعمروں کے لئے سوشل میڈیا پر پابندی 10 دسمبر سے شروع ہو رہی ہے، ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خاندانوں کے لیے سب سے اہم حصہ خود اصول نہیں ہے بلکہ والدین اپنے بچوں سے اس کے بارے میں کیسے بات کرتے ہیں۔ کھلی بات چیت سوشل میڈیا سے منتقلی کے دباؤ کو کم بنا سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف سڈنی میں میڈیا اور کمیونیکیشن کی سینئر لیکچرر ڈاکٹر کیتھرین پیج جیفری کہتی ہیں کہ والدین کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کی زندگی میں کتنا اہم ہے۔ بہت سے نوجوان دوستوں کے ساتھ بات کرنے، دلچسپیاں بانٹنے اور شناخت بنانے کے لیے پلیٹ فارم کو اپنے بنیادی طریقے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنا بچوں کی بات سمجھنے میں مدد دے گا۔

والدین گفتگو کا آغاز ان سوالات سے کر سکتے ہیں:
- آپ کو آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟
- آپ کو سب سے زیادہ کس چیز کی فکر ہے؟
- اس معاملے میں سب سے مشکل کیا محسوس ہوتا ہے؟
یہ ایک دوسرے پر اعتماد کے لئے جگہ بناتا ہے اور نوجوانوں کو یہ محسوس کرنے میں مدد دیتا ہے کہ ان کے لئے معاونت موجود ہے بجائے کہ ان پر کنٹرول کیا جائے۔
آپ کے بچے اب بھی معاشرے سے ربط کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟
چونکہ سماجی تعلق نوجوانوں کی بھلائی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، والدین انہیں متبادل طریقے تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں۔
اختیارات میں شامل ہو سکتے ہیں:
- میسیجنگ ایپس جن پر پابندی عائد نہیں ہے
- باقاعدہ آمنے سامنے ملاقاتیں
- ایسے پلیٹ فارمز پر گروپ چیٹس جہاں اکاؤنٹس کے بغیر رسائی ممکن ہے
- کمیونٹی، ثقافتی یا اسکول کی سرگرمیوں میں شرکت کی حوصلہ افزائی
بعض نوجوان، بالخصوص وہ جو ثقافتی اور لسانی لحاظ سے مختلف پس منظر سے ہیں،یا (LGBTQ+) کمیونٹیز سے ہیں، دیہی علاقوں میں رہتے ہیں یا معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، آن لائن مقامات انہیں وہ تعلق فراہم کر سکتے ہیں جو وہ آف لائن حاصل نہیں کر سکتے۔ انہیں مختلف تعلقات کے مواقع فراہم کرنے میں مدد کرنا، نقصان کے احساسات کو کم کر سکتا ہے۔

میرا بچہ تنہائی محسوس کرے تو اس کی مدد کیسے کی جائے؟
کچھ نوجوان خود کو اداس، پریشان یا دوستوں سے منقطع محسوس کر سکتے ہیں۔ والدین یہ کر سکتے ہیں:
- ان کے جذبات کی توثیق کریں ("یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آپ کو ایسا محسوس ہو رہا ہے۔")
- یاد دلائیں کہ وہ دوستی نہیں کھو رہے، صرف اپنے روابط کے طریقے بدل رہے ہیں۔
- ان کی مدد کریں یہ پہچاننے میں کہ وہ کن دوستوں سے سب سے زیادہ رابطے میں رہنا چاہتے ہیں۔
- ماہرین کے تجویز کردہ محفوظ، زیرنگرانی آن لائن جگہوں کے مواقع فراہم کریں، جیسے کہ کڈز ہیلپ لائن کی مائی سرکل یا بیونڈ بلیو کے فورمز۔لیو ہیدہ، کڈز ہیلپ لائن کے منیجر، یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کے ساتھ کھلا مکالمہ اور اعتماد پیدا کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں یقین دلائیں کہ اگر آن لائن کچھ غلط ہوتا ہے تو وہ آپ کے پاس آسکتے ہیں—بغیر کسی خوف کے کہ انہیں مصیبت میں ڈال دیا جائے گا۔

اکاؤنٹس بند ہونے سے پہلے مجھے کون سے عملی اقدامات کرنے چاہئیں؟
والدین اور نوجوان مل کر تیاری کر سکتے ہیں:
- موجودہ اکاؤنٹس سے تصاویر، ویڈیوز، چیٹس اور آن لائن یادیں محفوظ کریں۔
- ان دوستوں کی فہرست بنائیں جن سے وہ رابطہ رکھنا چاہتے ہیں اور فیصلہ کریں کہ ان سے کیسے رابطہ کیا جائے
- متبادل ایپس اور محفوظ آن لائن کمیونٹیز دریافت کریں۔
- ڈیوائس کے استعمال کے لیے حدود مقرر کریں جو کنکشن اور فلاح و بہبود کی اجازت دیں
اگر اکاؤنٹس فورا ہٹایا نہ بھی جائے، تو جلدی تیاری دباؤ کو کم کر سکتی ہے۔

پابندی شروع ہونے کے بعد مجھے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
پابندی کے نفاذ کے بعد، والدین کو اپنے بچوں سے آن لائن زندگی کے بارے میں بات کرتے رہنا چاہیے۔ خطرات صرف سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ پورے انٹرنیٹ پر موجود ہیں، اس لیے ڈیجیٹل فلاح و بہبود کو سپورٹ کرنا ضروری ہے۔
لیکن پابندی کے نافذ ہونے کے باوجود، والدین کو اب بھی اپنے بچوں کے ساتھ آن لائن حفاظت اور آن لائن خطرات کے بارے میں بات چیت جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ بہت سے آن لائن خطرات صرف سوشل میڈیا پر نہیں ہیں۔Dr Catherine Page Jeffery, senior lecturer in media and communications at the University of Sydney.
یاد رکھیں ، آپ اور آپ کے بچے کے درمیان مسلسل اعتماد برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ آپ یہ اس طرح کر سکتے ہیں کہ انہیں بتائیں کہ وہ ہمیشہ آپ کے پاس آ کر اپنے جذبات اور خدشات شیئر کر سکتے ہیں۔ یہسوشل میڈیا سے منتقلی کے دوران اور بعد میں سب سے طاقتور سپورٹ کی شکلوں میں سے ایک ہے۔
اپنے بچوں سے بات چیت اور فلاح و بہبود کے وسائل کے بارے میں مزید وسائل ای-سیفٹی کمشنر کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
Subscribe to or follow the Australia Explained podcast for more valuable information and tips about settling into your new life in Australia.
Do you have any questions or topic ideas? Send us an email to australiaexplained@sbs.com.au










