SKIP TO MAIN CONTENT

پمز ہسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت: یونیسیف کا ہسپتالوں میں فوری حفاظتی اصلاحات کا مطالبہ

20260826111814280427-minihighres.jpg

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد یونیسیف نے پاکستان کے طبی مراکز میں فوری حفاظتی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔آگ مبینہ طور پر ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے شروع ہوئی اور آکسیجن کنکشنز کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔ وارڈ میں موجود ۱۵ بچوں میں سے صرف ایک زندہ بچ سکا۔وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیا ہے، جبکہ وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا گیا ہے۔یونیسیف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر گنٹر بوسری نے ایس بی ایس اردو سے بات چیت میں فائر سیفٹی، آکسیجن کے محفوظ استعمال، تربیت یافتہ عملے اور باقاعدہ ہنگامی مشقوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔


تاریخِ اشاعت بجے

By Rehan Alavi

ذریعہ: SBS



Skip to podcast episode content

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد یونیسیف نے پاکستان کے طبی مراکز میں فوری حفاظتی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔آگ مبینہ طور پر ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے شروع ہوئی اور آکسیجن کنکشنز کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔ وارڈ میں موجود ۱۵ بچوں میں سے صرف ایک زندہ بچ سکا۔وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیا ہے، جبکہ وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا گیا ہے۔یونیسیف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر گنٹر بوسری نے ایس بی ایس اردو سے بات چیت میں فائر سیفٹی، آکسیجن کے محفوظ استعمال، تربیت یافتہ عملے اور باقاعدہ ہنگامی مشقوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔


اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر ملک بھر کے ہسپتالوں میں ہلاک ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے شروع ہوئی اور آکسیجن کنکشنز کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔ وارڈ میں موجود ۱۵ بچوں میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا۔

اس سانحے نے پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری اور جوابدہی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

واقعے کے بعد وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جبکہ وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا گیا ہے۔

یونیسیف پاکستان کے چیف آف ہیلتھ ڈاکٹر گنٹر بوسری نے کہا، ’’یونیسیف کی فوری تشویش ان خاندانوں کے لیے ہے جنہوں نے اپنے نومولود بچے کھو دیے۔‘‘ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔

یونیسیف پاکستان کے چیف آف ہیلتھ ڈاکٹر گنٹر بوسری کے مطابق، زچہ و بچہ اور نومولود بچوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی کو معیاری طبی سہولیات کا لازمی حصہ بنانا ضروری ہے، کیونکہ مریض خود محفوظ مقام پر منتقل نہیں ہو سکتے۔

یونیسیف پاکستان کے چیف آف ہیلتھ ڈاکٹر گنٹر بوسری نے کہا، ’’آکسیجن کو سخت حفاظتی اصولوں کے تحت ذخیرہ اور استعمال کیا جانا چاہیے۔‘‘ ان کے مطابق، ہسپتالوں میں تربیت یافتہ عملہ، ہنگامی منصوبے اور باقاعدہ فائر سیفٹی مشقیں ناگزیر ہیں۔

سرکاری تحقیقاتی کمیٹی پمز ہسپتال میں آگ لگنے کی وجہ، ہسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا مناسب حفاظتی اور ہنگامی طریقہ کار موجود تھا اور اس پر عمل کیا گیا یا نہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نومولود بچوں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے اس تحقیقات کا واضح جوابات اور جوابدہی تک پہنچنا ضروری ہے۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کی روشنی میں پاکستان بھر کے طبی مراکز میں آگ سے بچاؤ، ہنگامی ردعمل اور مریضوں کے تحفظ کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جانا چاہیے۔

___________________________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں

Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now