Watch FIFA World Cup 2026™

LIVE, FREE and EXCLUSIVE starting June 12 2026

کیا مصنوعی ذہانت اخلاقی صحافت کے اصولوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے؟

amar guriro

amar guriro Credit: amar guriro

مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence تیزی سے خبروں کی دنیا کو بدل رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی ایک انقلاب ہے یا ایک بحران کی شروعات؟ پاکستان میں اس تبدیلی کے نمایاں نام، سینئر صحافی اور ملک کے پہلے AI بیسڈ نیوز میڈیا پلیٹ فارم کے سربراہ Amar Gurero نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل کی صحافت مشینوں کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ انسانوں اور مشینوں کے مشترکہ کنٹرول میں ہوگی۔


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

ذریعہ: SBS



Share this with family and friends


مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence تیزی سے خبروں کی دنیا کو بدل رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی ایک انقلاب ہے یا ایک بحران کی شروعات؟ پاکستان میں اس تبدیلی کے نمایاں نام، سینئر صحافی اور ملک کے پہلے AI بیسڈ نیوز میڈیا پلیٹ فارم کے سربراہ Amar Gurero نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل کی صحافت مشینوں کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ انسانوں اور مشینوں کے مشترکہ کنٹرول میں ہوگی۔


مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا میں صحافت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں خبر کی رفتار، درستگی اور تصدیق کے طریقے بنیادی طور پر تبدیل ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق AI نے نیوز رومز کو زیادہ مؤثر ضرور بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ غلط معلومات، غیر تصدیق شدہ مواد اور اخلاقی ابہام کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

Amar Guriro
Amar Guriro Credit: Amar Guriro

ساگا ڈیجیٹل (Saga Digital) کے ایڈیٹر اِن چیف، امر گُریرو کے مطابق، صحافت کا مستقبل مکمل طور پر مشینوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ AI ایک طاقتور ٹول ضرور ہے، لیکن خبر کی سچائی، سیاق و سباق اور اخلاقی ذمہ داری ہمیشہ انسانی نگرانی کی محتاج رہے گی۔ ان کے مطابق آنے والے وقت میں وہی میڈیا ادارے کامیاب ہوں گے جو ٹیکنالوجی اور انسانی صحافتی اقدار کے درمیان ایک مضبوط توازن قائم رکھ سکیں گے۔

اس خصوصی انٹرویو میں ہم جانیں گے کہ AI نیوز رومز کو کہاں لے جا رہا ہے، اور ethical journalism اس نئی دنیا میں کیسے زندہ رہے گی۔


Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now