اہم نکات
- حزبِ اختلاف کے رہنما پیٹر ڈٹن نے چین کی اس مداخلت کو موقع بنا کر لیبر پارٹی کو گرینز کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی، اور دعویٰ کیا کہ وزیرِاعظم اس جماعت کے لیڈر کے "اشاروں پر چل رہے ہیں"۔
- انتھونی البانیزی کا البتہ کہنا ہے کہ ان کی حکومت آسٹریلیا کے مفادات کا دفاع کرے گی اور اپنے قدموں پر کھڑی رہے گی، ساتھ ہی چین کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات کا کریڈٹ بھی لیا۔
اس تناظر میں چین کے سفیر نے "آزاد کثیرالجہتی تجارت" کے دفاع کے لیے آسٹریلیا کے ساتھ "ہاتھ ملانے" کی پیشکش کی ہے، حالانکہ بیجنگ کو 125 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر ممالک کے لیے محصولات میں نرمی کی ہے۔
آسٹریلیا میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے فی الحال چین کی اس پیشکش سے خود کو دور رکھا ہوا ہے۔



