قانونی طور پر آسٹریلیا میں 18 سال کی عمر میں انسان بالغ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم بعض ریاستوں اور علاقوں میں بچوں پر 10 سال کی عمر سے ہی فوجداری الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں لیکن بلوغت یا جوانی میں داخلے کی رسومات ہمیشہ قانونی تعریفوں کے مطابق نہیں ہوتیں۔ آسٹریلیا میں رہنے والی بہت سی ثقافتیں اس اہم مرحلے کو اپنی روایتی یا مذہبی اقدار کے مطابق مناتی ہیں۔
بہت سے آسٹریلوی افراد کے لیے اسکول کے رسمی الوداعی پروگرام (Formals)، اسکولیز کی تقریبات یا 18 برس کی عمر کو پہنچنا زندگی کے اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں، جو بچپن سے بالغ زندگی کی جانب سفر کی علامت ہوتے ہیں۔
تاہم رائٹس آف پیسیج انسٹیٹیوٹ کے بانی ڈاکٹر آرنے روبن اسٹائن کے مطابق یہ جدید سنگِ میل ہمیشہ وہ گہرا مقصد، رہنمائی یا اجتماعی تعلق فراہم نہیں کرتے جو روایتی بلوغتی رسومات ماضی میں فراہم کرتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے: "ان میں 18ویں سالگرہ پر حد سے زیادہ شراب نوشی، کسی بھی طرح اپنی کنوارگی کھونا، یا بعض جگہوں پر لڑائی جھگڑے میں پڑ جانا، حتیٰ کہ جیل جانا بھی بالغ ہونے کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔"
آسٹریلیا میں بہت سی تارکینِ وطن کمیونٹیز آج بھی بالغ زندگی میں داخل ہونے کی اپنی روایتی تقریبات اور رسومات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، اور نئی سرزمین میں زندگی گزارتے ہوئے نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات کو زندہ رکھتی ہیں۔
اگرچہ مختلف ثقافتوں میں ان رسومات کی شکل اور انداز مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن محققین کے مطابق ان کا بنیادی مقصد اکثر ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔
کوئنزلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی محقق اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر جو کنگزمین کہتی ہیں کہ ایسی رسومات نوجوانوں کو روزمرہ زندگی کی مصروفیات سے کچھ فاصلے پر جا کر اپنی شناخت، اپنے کردار اور اپنے مستقبل کے بارے میں غور و فکر کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتی ہیں۔
SBS Examines کی اس قسط میں ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آج کے آسٹریلیا میں بلوغت اور بالغ زندگی میں داخلے کی روایتی رسومات کا کردار کیا ہے؟
یہ پروگرام SBS Hebrew کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، جبکہ اضافی پروڈکشن معاونت SBS Spanish اور SBS Japanese نے فراہم کی ہے۔





