ایک طرف آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک اور پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر پر ریلیز ، سمینار اور نمائیشیں منعقد ہورہی ہیں تو دوسری طرف اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ میں بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسوں پر تنقید کی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ
اقوام متحدہ کے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی سے قبل اور اس کے بعد تواتر سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔جولائی میں، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے 43 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی جس میں کشمیر کے ہندوستانی اور پاکستانی دونوں حصوں میں ریاستی سیکورٹی فورسز اور مسلح گروپوں کی طرف سے بدسلوکی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ "2016 کے بعد سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستانی سیکورٹی فورسز نے ہجوم کو کنٹرول کرنے والے ہتھیار کے طور پر پیلٹ فائرنگ شاٹ گن کا استعمال جاری رکھا ہے، اس کے باوجود بڑی تعداد میں حادثاتی شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی"۔
اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کشمیر کے علاقے کو انٹرنیٹ تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ حکام اکثر انٹرنیٹ خدمات کو من مانی طور پر معطل کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ذیلی ادارے ہیو من رائیٹس واچ کے مطابق بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں اگست 2019 میں 18 ماہ کی انٹرنیٹ بندش کو ہٹا دیا تھا جس سے پہلے بھارت نے ریاست کی آئینی خودمختاری کو منسوخ کر دیا اور اسے دو وفاقی حکومت والے علاقوں میں تقسیم کر دیا۔ کشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے میں اضافہ ہوا اور کچھ کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں صحافیوں کی من مانی حراست، مبینہ حراست میں قتل، اور "مقامی آبادی کے خلاف استعمال ہونے والے بنیادی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات شامل ہیں۔
یوم یک جہتی کشمیر پر پروگرام
پاکستان ہائی کمیشن کینبرا کے زیرِ اہتمام کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی پر چار فروری کی شام کو ایک زوم کانفرنس کے ذریعے لائیو ویبینار کا انعقاد کیا گیا۔

آسٹریلیا میں ہونے والے پروگراموں میں کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کے لئے ۵ فروری کو کشمیریوں کے حامی گروپس کی جانب سے اس مشترکہ ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دیگر حاضرین کے ساتھ پاکستانی ہائی کمشنر حفیظ چوہدری نے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔
میلبورن پرتھ، سڈنی اور دیگر آسٹریلین شہروں کے ساتھ دنیا کے دیگر ممالک میں اس سے پہلے ۲۰۱۹ بھی کشمیری عوام کے حامیوں کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے خلاف ریلیاں نکالی گئی تھی ۔

دو ہزار انیس میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے نے آسٹریلوی مقامی کمیونٹیز کو تقسیم کر دیا تھا جس میں ایک طرف خطے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج اور مظاہرے ہوئے تھے تو دوسری طرف آسٹریلیا میں موجود بھارت نواز حلقوں نے اس بھارتی اقدام کی حمایت کی تھی۔۔
میلبورن میں کشمیری پنڈت کلچرل ایسوسی ایشن کے صدر نے اسے "تاریخی فیصلہ" قرار دیا تھا۔ اندو کول نے ایس بی ایس ہندی کو بتایا تھا کہ "کشمیر کے لوگوں کی اکثریت جیسے ڈوگرہ، لڈکھی، پنڈت کشمیر پر مودی سرکار کے فیصلے سے خوش ہیں، تاہم، بقول ان کے چند کشمیری مسلمان خوش نہیں ہیں لیکن جب بھارتی کشمیر میں ترقی ہوگی تو یہ خیال بھی بدل جائے گا۔"
سکھ انٹرفیتھ کونسل آف وکٹوریہ ان تنظیموں میں شامل تھی جس کے اراکین اس سے پہلے بھی میلبورن کے احتجاج کے دوران موجود تھے۔
کونسل کے چیئرمین جسبیر سنگھ نے ایس بی ایس پنجابی کو بتایا کہ "سکھ ہمیشہ ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں اور یہ کوئی مختلف نہیں ہے۔"
یوم یکجہتی کشمیر منانے کا سلسلہ گزشتہ 30 سال سے بلا تعطل جاری ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پاکستان میں سرکاری سطح پر تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس بار سینٹ اور قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس منعقد ہو رہے ہیں اور ملک میں ۵ فروری کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔اس دن کی مناسبت سے پاکستان کے طول وعرض میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے بھی احتجاجی جلسے جلوس منعقد کیے کئے جاتے ہیں۔بھارت کشمیر کو اہنا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے وہاں کی شورش کی وجوہات کا ذمہ دار مبینہ طور پر پاکستانی دراندازی کو قرار دیتا ہے جس کی پاکستان تردید کرتا ہے۔
- نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے
- Spotify Podcast, Apple Podcasts, Google Podcast, Stitcher Podcast
- کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
- اردو پروگرام ہر بدھ اور اتوار کو شام 6 بجے (آسٹریلین شرقی ٹائیم) پر نشر کیا جاتا ہے





