آسٹریلیا کے محکمہ صحت کے نے خبردار کیا ہے کہ جنگلی مشرومز کھانے سے صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ، کیونکہ زہریلے "ڈیتھ کیپ" مشرومز کی نشاندہی سڈنی، سدرن ہائی لینڈز اور جنوبی نیو ساؤتھ ویلز کے علاوہ جنوبی آسٹریلیا کے ایڈیلیڈ ہلز کے علاقوں میں کی گئی ہے۔"ایمانیٹا فیلائیوئیڈز" (Amanita phalloides)، جو عام طور پر ڈیتھ کیپ مشروم کے نام سے جانے جاتے ہیں، کھانے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
پوائزنز انفارمیشن سینٹر کی سینئر ماہر جینیویو آدامو نے کہا کہ مشروم زہر دینے کی علامات بعض اوقات دیر سے ظاہر ہوتی ہیں، لیکن فوری علاج صحت کے نتائج کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔
"علامات میں قے، دست، اور شدید صورتوں میں جگر اور گردے فیل ہونا یا موت بھی شامل ہو سکتی ہے،"
بوٹینک گارڈنز آف سڈنی کے چیف سائنٹسٹ، پروفیسر بریٹ سمریئل نے خبردار کیا کہ یہ جاننا کہ کوئی جنگلی مشروم کھانے کے قابل ہے یا زہریلا، انتہائی مشکل ہے۔
"کوئی آسان یا قابل بھروسہ طریقہ نہیں کہ آپ جنگلی مشرومز کو پہچان سکیں، اسی لیے ہم مشورہ دیتے ہیں کہ لوگ جنگلی مشرومز چننے یا کھانے سے گریز کریں۔"
"زہریلے مشرومز کو پکانے سے بھی ان کا زہر ختم نہیں ہوتا، اس لیے صرف وہی مشرومز کھائیں جو قابل اعتماد اسٹور، سپر مارکیٹ یا مارکیٹ سے خریدے گئے ہوں۔"





