وفاقی وزیر صحت مارک بٹلر نے نیشنل ڈس ایبلٹی انشورنس اسکیم (NDIS) میں بڑی اصلاحات کومشکل،مگر ناگزیربیان کیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اہلیت کے معیار کو سخت کیا جائے گا،مالی معاونت کم کی جائے گی تاکہ 50 ارب ڈالر کی اس اسکیم کے اخراجات کو قابو میں رکھا جا سکے۔ مارک بٹلر کے مطابق، اس اسکیم کا مستقبل انہی اقدامات پر منحصر ہے۔ این ڈی آئی ایس کا آغاز 2013 میں ہوا تھا، اور ابتدائی طور پر اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ تقریباً 4 لاکھ افراد کو سہولت فراہم کرے گی جبکہ اس پر سالانہ 13.5 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔تاہم اب تقریباً 7 لاکھ 60 ہزار افراد اس اسکیم کا حصہ ہیں اور اس کی لاگت بڑھ کر 50 ارب ڈالر سالانہ ہو چکی ہے۔حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دہائی کے اختتام تک شرکاء کی تعداد کم کر کے 6 لاکھ تک لائی جائے گی۔ مارک بٹلر کے مطابق ،اب رسائی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کسی فرد کی روزمرہ زندگی کس حد تک متاثر ہے-انہوں نے کہا کہ پہلے بنائی گئی فہرستیں عارضی تھیں، مگر اب ایک معروضی نظام متعارف کرایا جائے گا۔
پیپل ود ڈس ایبلٹی آسٹریلیا کے صدر جیرمی ہوپ کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار تو بہت دیے گئے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اگلا قدم کیا ہوگا، خاص طور پر اُن ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کے لیے جو ممکنہ طور پر سپورٹ سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ہمیں یہ یقین دہانی چاہیے کہ کل جب لوگ اٹھیں تو انہیں معلوم ہو کہ ان کے لیے سپورٹ موجود ہے۔ شیڈو وزیر میلیسیا مکلنٹوش نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ اصلاحات جلد بازی میں کی جا رہی ہیں، اور اپوزیشن سے کوئی مناسب مشاورت نہیں کی گئی-




