ماریہ بانو نے وبائی مرض سے پہلے تسمانیہ یونیورسٹی سے اپنی ڈگری مکمل کی تھی۔ وہ اپنے ہی شعبے میں کام ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئیں۔ آج، وہ نہ صرف اپنے ہی شعبے میں مستقل ملازم ہیں بلکہ وہ آسٹریلیا کی مستقل رہائشی بھی بن گئی ہیں۔ ماریہ کہتی ہیں کہ اگر بین الاقوامی طلباء اپنی پڑھائی پرتوجہ دیں گے تو باقی اہداف حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
شئیر





