پاکستان سے تعلق رکھنے والے سڈنی کے رہائشی ۲۸ سالہ آدم ابوصہیب اعتکاف میں بیٹھنے کے تجربے کو منفرد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ پہلی بار 25 سال کی عمر میں اعتکاف بیٹھے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ اعتکاف کی عبادت روزمرہ کہ مصروفیات سے الگ ہوکربہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
آدم ابو صہیب کے مطابق، اعتکاف کرنے کا خیال انہیں اپنے والد کو دیکھ کر آیا جنہیں وہ بچپن سےاعتکاف میں بیٹھتا دیکھتے تھے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ابتدا میں دنیاوی سرگرمیوں سے مکمل کنارہ کشی کرنا ایک چیلنج تھا۔
میں ہر سال کوشش کرتا ہوں کہ اس روایت کو جاری رکھوں، اور اس رمضان میں بھی میں نے اعتکاف کا ارادہ کیا ہے تاکہ خود کو اللہ کے قریب محسوس کر سکوں۔آدم ابو صہیب
اعتکاف کے بعد آدم نے صرف ضروری کاموں کے لئے موبائیل کے استعمال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں احساس ہوا کہ ہر چیز ہر وقت ضروری نہیں اور اس کے اثرات انہیں رمضان کے بعد بھی محسوس ہوتے ہیں۔
وہ آسٹریلیا کی بڑی مساجد میں اعتکاف کے بہترین انتظامات کی تعریف کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ریجنل علاقوں میں اعتکاف سے ناواقفیت کی کمی کے لئے ان علاقے کے مسلمانوں کو اعتکاف کی ترغیب دیتے ہیں۔





