ایس بی ایس اردو

میلبرن میں منعقد فیکا کا آنکھوں دیکھا احوال

ایس بی ایس اردو

Fecca

Stalls in Fecca Source: SBS

ایس بى ایس کی موبائیل ایپ حاصل کیجئے

سننے کے دیگر طریقے


تاریخِ اشاعت 18/06/2022 6:47pm بجے
تخلیق کار Warda Waqar
ذریعہ: SBS

آسٹریلیا ایک کثیر الثقافتی معاشرہ ہے جہان مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد بستے ہیں ۔ ان افراد کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالنے کے لئے میلبورن میں فیکا 2022 کا انعقاد کیا گیا۔فیڈریشن آف ایتھنیک کمیونیٹیز کونسل آف آسٹریلیا یا فیکا کی دو روزہ کانفرنس میں آسٹریلیا میں موجود ہر رنگ و نسل اور ثقافت کی نمائندگی کی گئی تھی ۔ فیکا کا مکمل احوال جانئیے اس رپورٹ میں *FEDERATION OF ETHNIC COMMUNITIES' COUNCILS OF AUSTRALIA (FECCA)


تاریخِ اشاعت 18/06/2022 6:47pm بجے
تخلیق کار Warda Waqar
ذریعہ: SBS


دو سال کے تعطل کے بعد میلبرن میں منعقد ہونے والی فیکا کانفرنس کا مقصد ایک ایسے آسٹریلوی معاشرے کی جانب قدم بڑھانا تھا جو باہمی اتفاق اور ثقافتی برداشت پر مبنی  نسلی تفریق سے ہو۔


 

Advertisement
سال 2022 میں منعقد کانفرنس دو سال کے بعد منعقد کی گئی ۔

کانفرنس کے شرکاء میں آسٹریلیا میں موجود تقریبا تمام قومیتوں اور رنگ و نسل کے افراد موجود تھے ۔

کانفرنس کے دوران ان مسائل کو جاننے اور ان کا حل نکالنے کی کوشش کی گئی جو تارک وطن کمیونٹیز اور پناہ گزین افراد کو درپیش ہیں ۔


آسٹریلیا میں موجود مختلف رنگ و نسل اور متنوع ثقافتی پس منظر رکھنے والے افراد کو کیا چیلنجز درپیش ہیں اور کون

سے مسائل ہیں جو روز مرہ بنیادوں پر تارک وطن افراد کے سامنے آتے ہیں ، فیکا 2022 کے دوران کوشش کی گئی کہ ان تمام نکات کا بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے ۔

Fecca
Source: SBS


 

گھریلو تشدد سے لے کر آن لائن دھوکہ دہی ، بزرگوں کا استحصال اور دیگر خانگی مسائل سمیت ہر اس موضوع پر روشنی ڈالنے کے لئے مختلف طبقہ فکر کے افراد کو مدعو کیا گیا جو ان اہم معاملات مہارت رکھتے ہیں ۔

اس موقع پر ایس بی ایس اردو سے گفتگو کرتے ہوئے فیکا کے ٹریثرر اور پاکستانی نژاد نوجوان وقاص درانی نے کہا کہ آسٹریلین پلیٹ فارمز پر پاکستانی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کا کم نظر آنا کئی بنیادی وجوہات کے باعث ہے ۔ ان کا کہنا تھا نوجوانوں کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سب سے پہلی توجہ اپنی تعلیم پر مرکوز کریں ۔ خواتین کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وقاص نے کہا کہ گھروں میں موجود خواتین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے جو بچوں کی تربیت کررہی ہیں ۔۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی پاکستانی اقدار اور مذہبی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل کریں تو یقینا یہ ہی معاشرے میں بہتری لانے کا سبب بن جائے گا ۔ وقاص کا کہنا تھا کہ آسٹریلین معاشرے میں قانون کی بالا دستی کے باعث یہاں ہر شخص قوانین کا احترام کرتا ہے ۔

Fecca
Waqas Durrani Treasurer Fecca Source: SBS


کانفرنس می "ہو از لیڈر" کے سیشن میں حصہ لینے والی فیکا یوتھ ڈائریکٹر اور سماجی کارکن ردا علیم خان نے خواتین کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی کہ آسٹریلیا میں خواتین کو مدد حاصل کرنے کے لئے وسائل ان کی زبان میں میسر آئیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی خواتین اور خصوصا ایسی پاکستانی خواتین جو قبائلی علاقوں سے آسٹریلیا آتی ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وسائل کی فراہمی ان کی زبان میں ہو۔ ساتھ ہی ردا نے زور دیا کہ متنوع معاشرے میں پاکستانی خوتون کے کردار کو آگے لانے کے لئے پہلے اپنی کمیونٹی پر محنت کرنا ہو گی اور خواتین کو پر اعتماد ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

Fecca
SBS at Fecca Source: SBS


سلام فیسٹ کی روح رواں عائشہ بخش نے ایس بی ایس اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین میں استعداد اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ عائشہ کے مطابق خواتین کو اگر تھوڑا سا بھی وقع دیا جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتی ہیں ۔ خواتین پر ہونے والے گھریلو تشدد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ بخش نے کہا کہ صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ ہر کمیونٹی میں گھریلو تشدد کی مثالیں  موجود ہیں اور وہ خود بھی اس سلسلے میں ایک ادارہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ عائشہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنوب ایشائی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی گھریلو تشدد کے خلاف آسٹریلیا کے بنیادی دھارے میں نمائندگی نظر نہیں آتی جبکہ اپنی کمیونٹیز میں بہت زیادہ افراد اس حوالے سے کام کر رہے ہیں جس کی وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے عائشہ نے کہا کہ دراصل جنوب ایشیا سے آسٹریلیا آنے والے تارک وطن افراد زیادہ تر نوجوان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہماری نمائندگی نہیں ہوگی دیگر اقوام کو ہمارے مسائل کا اندازہ نہیں ہوگا کیونکہ ثقافتی طور پر ہمارے مسائل وسط ایشیائی ممالک سے مختلف ہیں ۔

Fecca
Ayesha Bux (salam fest) Source: SBS


یونائیٹڈ کلچرل سپورٹ ان کارپوریشن میں بطور رضاکار کام کرنے والی وائس آف آوٹر ساوتھ کی آسیہ بتول جن کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے ہے ، انہوں نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی کے وہ افراد جو کشتی کے ذریعے آسٹریلیا پہنچے تھے مشکلات کا شکار ہیں اور ان کو نہ صرف معاشرتی بلکہ خانگی مسائل کا بھی سامنا ہے ۔ آسیہ کا کہنا تھا کہ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور بچے نہ صرف با صلاحیت ہیں بلکہ محنتی بھی ہیں آسیہ کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا ہمارے لئے جنت اور دوسرا گھر ہے جس کی بہتری اور ترقی میں ہم ھصہ ڈالنا چاہتے ہیں ۔ آسیہ نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ ہزارہ کمیونٹی کے افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرے اور دس دس سال سے برجنگ ویزہ پر موجودافراد کی مستقل رہائش کے لئے اقدامات کئے جائیں

آسٹریلین کریسنٹ سوسائیٹی کے چیرمین عباس علوی کا کہنا تھا آسٹریلیا میں موجود تمام رنگ و نسل کے افراد کو اکھٹا رکھنا تو ضروری ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کی بھی بہت ضرورت ہے کہ آسٹریلیا کے ایب اوریجنل اور انڈیجنس کمیونٹیز کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہئے ۔


  • اردو پروگرام ہر بدھ اور اتوار کو شام 6 بجے (آسٹریلین شرقی ٹائیم) پر نشر کیا جاتا ہے
  • اردو پرگرام سننے کے طریقے
 

 


شئیر