خیبر پختونخوا میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں 150 سے زائد افراد لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے اور صوبائی حکام کے مطابق اب تک کم از کم 323 افراد ہلاک ہو چکے ہیں،کئی بچ جانے والے افراد نے اپنے پیاروں کے بہہ جانے کے تکلیف دہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔
خیبرپختونخوا کے حکام کے مطابق صوبے میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 323 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 217 صرف ضلع بونیر کے رہائشی ہیں۔ این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ طوفانی بارشوں کے سبب مزید سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔
کینبرا میں مقیم بلال مختار کا تعلق خیبر پختون خواں کے ضلع مانسہرہ سے ہے۔ ان کے خاندان کے کئی افراد متاثرہ علاقوں میں ہیں۔ بلال بتاتے ہیں کہ ان کی بات اپنے گھر والوں سے ہوئی ہے مگر شدید بارشوں سے ذرائیع مواصلات اور ذرائیع آمد رفت بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مزید بارشوں کے پیشِ نظر ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
الرٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے اوپر موجودہ موسمی نظام فعال ہے، جو سوموار کو مزید موسلادھار بارشوں کا باعث بن سکتا ہے۔
بلال نے بتایا کہ شدید متاثرہ علاقوں میں سوات، شانگلہ اور دیگر علاقوں میں جان و مال کے ضیاع کے ساتھ کاروبار ، مال مویشی اور مواصلاتی ڈجھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔





