ماہرینِ ہر شخص کو فلو ویکسین لگوانے کی ہدایت کر رہے ہیں تاکہ گزشتہ سال جیسی صورتحال دوبارہ نہ ہو، جب آسٹریلیا میں انفلوئنزا سے ریکارڈ تعداد میں اموات ہوئیں۔ گزشتہ سال 1,700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور پانچ لاکھ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ صحت کے ماہرین کہتے ہیں کہ کم ویکسینیشن ریٹ بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجہ ہے اور وہ خبردار کر رہے ہیں کہ اس سال حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ انفلوئنزا کی نئی قسم کے-سپر تیزی سے پھیل رہی ہے۔
آسٹریلیا میں فلو سیزن غیر معمولی طور پر جلد شروع ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ نئی تیزی سے پھیلنے والی فلوکی قسم کے- سپر ہے۔گزشتہ سال ملک بھر میں پانچ لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ اس سال اب تک 24,000 سے زیادہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، اور یہ سیزن کے عروج سے پہلے کا وقت ہے۔
بریسبین کے میٹر ہسپتال میں انفیکشس ڈیزیز کے ڈائریکٹر پروفیسر پال گریفن کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو فلو ویکسین لگوانا چاہیے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس سال کی ویکسین کے-سپر کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہے۔
گزشتہ سال 65 سال یا اس سے زائد عمر کے 60.5 فیصد افراد ویکسین لگوا چکے تھے، جبکہ 50 سے 65 سال کے صرف 32.3 فیصد افراد ویکسینیشن حاصل کر سکے۔ پروفیسر پال گریفن نے مزید کہا کہ ویکسین کے بارے میں غلط معلومات بھی کم ویکسینیشن کی ایک وجہ ہیں۔ فلو ویکسین اب دستیاب ہے اور اپریل اور مئی کے مہینے اسے لگوانا سب سے بہترین وقت سمجھا جاتا ہے تاکہ سیزن کے عروج سے پہلے تحفظ حاصل ہو سکے۔




