ام صہیب ابو جبل ایک بے گھر فلسطینی خاتون ہیں جو وسطی غزہ کے بوریج کیمپ میں مقیم ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اس سال کا رمضان گزشتہ سالوں سے بہت مختلف ہے کیونکہ وہ اپنے گھروں میں سجاوٹ اور خوشیاں منانے کے بجائے خیموں میں سوگ منا رہی ہیں۔

امریکہ کا ایک فوجی جہاز غزہ کی طرف بڑھ رہا ہے، جو سمندر کے راستے خوراک اور امداد پہنچانے میں مدد کے لیے ایک عارضی بندرگاہ بنانے کے لیے ضروری سامان لے کر جا رہا ہے۔
یہ امریکی صدر جو بائیڈن کے اپنے حالیہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران ایک اعلان کے بعد ہے، جس کے دوران انہوں نے تیرتی امدادی بندرگاہ کی تعمیر کا اعلان کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے کئی مواقع پر غزہ میں قحط اور بچوں کی بھوک سے مرنے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔
توقع ہے کہ گھاٹ کو مکمل ہونے میں 60 دن لگیں گے، جسے 1,000 فوجی تعمیر کر رہے ہیں مگر یہ فوجی ساحل پر نہیں جائیں گے۔
امریکی صدر نے بھی غزہ میں شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے۔
فلسطینی شہری دفاع کے گروپ کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے ہے کہ غزہ شہر کے مغرب میں واقع تل الحوا میں رہنے والے ایک خاندان کے تمام 10 افراد اسرائیل کے فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔
ایک امدادی گروپ نے اتوار [[10 مارچ]] کو ایک ویڈیو جاری کی جس میں ریسکیو ٹیموں کو ملبے سے بے جان افراد کو نکال کر کمبل میں لپیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ویڈیو کب فلمائی گئی تھی اس کی صحیح جگہ یا تاریخ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مہم شروع کرنے کے بعد سے پانچ ماہ کے دوران تقریباً 31,000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان لوگوں میں سے کم از کم 13,000 وہ "دہشت گرد" ہیں جو غزہ پر اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملے کے دوران ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں سے ہیں۔
غزہ میں وزارت صحت نے حماس کے شہریوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان مرنے والوں کی تعداد کی وضاحت نہیں کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے تقریباً تین چوتھائی خواتین اور بچے ہیں۔
مسٹر نیتن یاہو نے جرمنی کے بِلڈ اخبار کو بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے رفح میں زمینی کارروائی شروع کرنے کے بعد فتح "چند ہفتوں میں" متوقعہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت حملوں کو روکنے سے حماس کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملے گا۔
غزہ کی پٹی کے آخری علاقے رفح میں دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں جس پر اسرائیل نے اب تک حملہ نہیں کیا ہے مگر اس بارے میں بھی خدشات بڑھ رہے ہین۔۔




