آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا میں حکمران لیبر پارٹی نے ایک ایسا اعلان کیا ہے جو شہری زندگی میں نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ اپریل ۲۰۲۶ کے پورے مہینے کے لیے ریاست بھر میں سرکاری ٹرینیں، ٹرامیں اور بسیں مکمل طور پر مفت کر دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور عوامی روزمرہ کے اخراجات پر پڑنے والے دباؤ کے پیشِ نظر متعارف کرایا گیا ہے۔ مقصد واضح ہے: شہریوں کے روزمرہ سفر کو سہل بنانا، ذاتی گاڑیوں پر انحصار کم کرنا اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی طلب پر قابو پانا۔
وکٹورین وزیرِ اعلیٰ جیسنٹا ایلن نے کہا ہے کہ یہ ایک عارضی اور ہنگامی اقدام ہے جو ۳۱ مارچ سے ۳۰ اپریل تک نافذ رہے گا۔ اس میں میلبورن کے میٹرو اور V/Line ٹرین سروسز، بسیں، اور ٹرام نیٹ ورک شامل ہیں۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والے مائیکی کارڈز خود بخود اس مدت کے لیے معطل ہوں گے اور بعد ازاں معمول کے مطابق بحال کیے جائیں گے، تاکہ مسافروں کو کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف ریاستی بجٹ بلکہ عام گھروں پر بھی ایک بھاری بوجھ بن گئی ہیں۔ عالمی سطح پر خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے تیل کی رسد میں خلل ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں آسٹریلیا میں پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور کئی پٹرول اسٹیشنز میں مختلف ایندھن کی قلت معمول بن گئی ہے۔
میلبورن کے رہائشی محمد زید شاکر کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ بروقت ہے۔ ان کے بقول، "گرچہ یہ ریلیف صرف ایک ماہ کے لیے ہے، لیکن اس سے روزمرہ زندگی میں واضح آسانی آئے گی اور پیٹرول کے اخراجات کم ہوں گے۔"
وکٹورین حکومت کے مطابق اس اقدام کی لاگت تقریباً ۷۰ سے ۸۰ ملین ڈالر ہے، جو ایک ماہ کے مفت سفر کے بدلے میں ٹرانسپورٹ ریونیو میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ ہے۔ حکومتی حکام اسے ایک مؤثر قدم قرار دیتے ہیں جو قیمتوں کے دباؤ میں کمی اور گھریلو اخراجات میں سکون فراہم کرتا ہے۔
دوسری ریاستوں میں یہ اقدام یکساں طور پر اپنایا نہیں گیا۔ نیو ساؤتھ ویلز اور ویسٹرن آسٹریلیا نے بجٹ اور سروس استحکام کے تناظر میں اس عمل میں حصہ لینے سے انکار کیا اور مختلف متبادل امدادی اقدامات پر زور دیا۔
اقتصادی ماہرین اور عوامی ردعمل بھی مخلوط ہیں۔ کچھ لوگ اسے فیول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف فوری اور ہمدردانہ سیاسی ردعمل قرار دیتے ہیں، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو روزمرہ سفر پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ تاہم کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ مفت سفر کے باعث ٹرینوں، بسوں اور ٹراموں پر رش میں اضافہ اور نظام پر دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے، خاص طور پر صبح اور شام کے مصروف اوقات میں۔
ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ محمد یاسین کے بقول، "رائڈ شیئرنگ کے ڈرائیور اس فیصلے سے زیادہ خوش نہیں، لیکن طویل المدت میں یہ ریلیف سب کے لیے فائدہ مند ہوگا۔" وہ مزید کہتے ہیں کہ جب تک عالمی سطح پر پیٹرولیم کا بحران حل نہیں ہوتا، شہریوں کو بھی محتاط انداز میں بجٹ اور بچت کے طریقے اپنانے چاہیے۔
یہ اقدام وکٹوریا میں ٹرانسپورٹ پالیسی کے ایک اہم عارضی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں حکومت نے فوری معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تدابیر وقتی طور پر عوامی روزمرہ ضروریات میں راحت فراہم کر سکتی ہیں، لیکن اس کے طویل مدتی معاشی اور ٹرانسپورٹ پلاننگ پر اثرات آئندہ چند ماہ میں بہتر طور پر سامنے آئیں گے۔





