ایس بی ایس اردو

حکومت نے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا پلان تیار کر لیا

ایس بی ایس اردو

Minister for Climate Change and Energy Chris Bowen speaks to media during a press conference in Sydney, Monday, June 20, 2022. (AAP Image/Steven Saphore) NO ARCHIVING

Minister for Climate Change and Energy Chris Bowen speaks to media during a press conference in Sydney Source: AAP

ایس بى ایس کی موبائیل ایپ حاصل کیجئے

سننے کے دیگر طریقے


تاریخِ اشاعت 21/06/2022 6:36pm بجے
تخلیق کار Greg Dyett
پیش کار Nida Tahseen
ذریعہ: SBS

وفاقی حکومت نے ایک ڈرافٹ پلان تیار کیا ہے جس میں سفارش کی گئی ہے بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو نیشنل گرڈ کے لیے قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کی ضمانت کے طور پر رقم کی ادائیگی کی جائے گی۔ یہ تجویز وفاقی حکومت کے 2017 میں قائم کردہ انرجی سیکیورٹی بورڈ کی طرف سے آئی ہے جس کا کردار آسٹریلیا کی توانائی کی حفاظت اور فراہمی کی نگرانی کرنا ہے۔


تاریخِ اشاعت 21/06/2022 6:36pm بجے
تخلیق کار Greg Dyett
پیش کار Nida Tahseen
ذریعہ: SBS


وفاقی حکومت کا انرجی سکیورٹی بورڈ بجلی کی پیدا کرنے والے جنریٹرز جن میں کوئلے اور گیس کے پلانٹس شامل ہیں کو کپیسٹی میکانزم یعنی گنجائش کے طریقہ کار کے تحت بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور فراہمی کو یقینی بنانے کی غرض سے رقم ادائیگی کی تجویز دے رہا ہے۔  

یاد رہے کہ موجودہ انتظامات کے تحت جنریٹرز کو صرف قومی مارکیٹ جس میں ایسٹ کوسٹ اور ساوتھ آسٹریلیا شامل ہیں کیلیے بجلی پیدا کرنے کیلیے ادائیگی کی جاتی تھی۔ 

انرجی ریگولیٹرز کی جانب سی عائد کی گئی قیمت پر حد قائم تھی جس کے نتیجے میں ان میں سے چند جنریٹرز نے بجلی کی پیداوار کم کر دی تھی جس سے قومی سطح پر بلیک آوٹس ہوئے تھے اور لوگوں میں تشویش بڑھی تھی۔    

Advertisement
جنریٹرز کے اس اقدام کے باعث ملک میں انرجی کا عدم استحکام اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ریگولیٹرز کو مداخلت کرنا پڑی اور انھوں نے ایک ماہ کیلیے ملک کی انرجی مارکیٹ کی باگ دوڑ سنبھال لی ہے۔

لیحاظہ انرجی سیکیورٹی بورڈ نے تجویز کیا ہے کہ جنریٹرز کو ادائیگی کی جائے تا کہ وہ ضرورت پڑنے پر دستیاب ہوں اور پیداوار بڑھا سکیں۔ 

انرجی سیکورٹی بورڈ کے مطابق اگلے تیس سالوں میں بجلی کی ڈیمانڈ دوگنی ہوجائے گی۔

وفاقی توانائی کے وزیر کرس بوون کا کہنا ہے کہ موجود مشکلات کے حل کیلیے ڈرافت پلان بنایا جارہا ہے۔ 

انرجی سیکیورٹی بورڈ کا کہنا ہے کہ کپیسٹی میکانزم میں کوئلے اور گیس کی ٹیکنالوجیز کو شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ 

انکے استعمال سے اسٹیٹس کو اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ کونسے جنریٹرز کو رقم کی ادائیگی کی ضرورت ہے۔ 

دوسری جانب گرینز کے لیڈر ایڈم بانٹ کوئلے اور گیس کی کارپوریشنز کو رقم کی ادائیگی کے مخالف ہیں۔ 

انکا کہنا ہے کہ اگر ہم کوئلے اور گیس کو ابھی بھی سسٹم کا حصہ رکھیںگے تو آسٹریلیا کی رینیوایبل انرجی کی طرف منتقلی میں دیر ہوتی جائے گی۔ 

مسٹر بانٹ نے لیبر کے 2030 کے انخراج میں 43 فیصد کمی کے پلان پر بھی تنقید کی۔ 

انکا کہنا تھا کہ اگر آسٹریلیا نے اس ٹارگٹ کو نہ بڑھایا تو آسٹریلیا قدرتی دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک کی موت کی صدارت کر رہا ہوگا۔ انکا اشارہ گریٹ بیریر ریف کی طرف تھا۔  

تازہ اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے انتباہ کیا ہے کہ وہ انرجی مارکیٹ کی طرف سے چکمہ سازی کا رویہ برداشت نہیں کرے گی۔اس بات کا اعلان بجلی کے نرخوں میں اضافے کی تحقیقاتی ادارے کو کمیشن کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔  

اے ٹرپل-سی انکوائری اس بات کی جانچ کرے گی کہ آیا بڑے پاور جنریٹر آپس میں ملی بھگت کر رہے ہیں اور کیا انہوں نے گزشتہ ہفتے مارکیٹ میں سپلائی جان بوجھ کے روکی تھی۔ ۔

ٹرییر جم چارمرز نے انکوائری کے نتائج آنے سے قبل ہی اسکو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس عمل کیلیے مزید شفافیت کی ضرورت ہے۔

انکوائری کے نتائج  اگلے ماہ ہونے والے ملک کے انرجی کے وزرا  کی بیٹھک کے بعد شائع کیے جائینگے۔


 

 

پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے سب سے اوپر دئیے ہوئے اسپیکر آئیکون پر کلک کیجئے یا نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:


شئیر