آسٹریلیا میں اگست میں ہونے والے اینٹی امیگریشن ریلیوں کی خبروں نے آسٹریلیا سمیت دنیا بھر کی شہ سرخیوں میں جگہ بنائی ہے۔ لیکن تارکینِ وطن کے خلاف یہ جذبات صرف آسٹریلیا تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس مسئلے نے یورپ اور امریکہ کی سیاست میں بھی ہلچل مچا رکھی ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق بڑے پیمانے پر ملک بدری کا عمل جاری رکھا ہے۔ اب امریکہ میں کم از کم ایک ملین مہاجرین کی کمی ہو چکی ہے، جس سے زرعی اور تعمیراتی شعبوں جیسے اہم صنعتوں پر کارکنان کی قلت کے باعث معشیت کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مائگریشن یورپ میں بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو طویل عرصے سے جنگ اور غربت سے فرار ہونے والے افراد کی لگاتار آمد کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔
امریکہ میں ریپبلکن پارٹی حالیہ برسوں میں سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے مشہور ہوئی ہے، لیکن امریکہ ہی نہیں، یورپ میں بھی امیگریشن پالیسیوں پر سخت رویہ اختیار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں لاکھوں افراد جنگ اور غربت سے بھاگ کر پناہ تلاش مین پہنچ رہے ہیں۔
صدر رونالڈ ریگن نے امیگریشن کو اپنی حکومت کا مرکزی نکتہ کبھی نہیں بنایا تھا۔بلکہ انہوں نے امریکہ کو بیرون ملک سے آنے والوں کو خوش آمدید کہنے پر زور دیا اور ایک بل پر دستخط کیے جس کے تحت 27 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو مستقل رہائش دی گئی۔ مگر ٹرمپ کی اینٹی امیگریشن جارحانہ پالیسیوں اور اقدامات نے خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ امیگریشن پالیسی حقیقی اصلاحات کے بجائے سیاسی تعصب اور پرانی دشمنیوں پر مبنی ردعمل میں تبدیل ہو رہی ہے۔
مخالفین کہتے ہیں کہ مہاجرین کو غلط طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ICE: Immigration and Customs Enforcement





