کینبرا کے رہائشی سید عمر بن عزیز رضوی کہتے ہے کہ ہماری چیرٹی تنظیم کےپاس فہرست ہوتی ہے جو لوگ آسٹریلیا میں نئے آتےہیں یا پھر قربانی نہیں کرپاتےانہیں گوشت اور راشن تقسیم کرتے ہیں۔ جہانزیب اجمل نے کہا کہ ہم اپنے قصائی کے ذریعے بکنگ کرواکر گوشت وصول کرتے ہیں، ہم پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سمیت غریب لوگوں کو قربانی کا گوشت بھیجواتے ہیں۔
سڈنی کی مسجد قبا کے امام و خطیب ڈاکٹر شبیر احمد کہتے ہیں کہ خود اپنے ہاتھ سے قربانی یقینا افضل عمل ہے لیکن آسٹریلیا اُن ممالک میں سےہےجوآپ کو خود سے جانورذبح کرنے کی اجازت نہیں دیتا،مزید کہا کہ اپنے قابلِ اعتماد لوگوں سے کہہ کربیرون ملک یا پاکستان میں قربانی کروالیں
کینبرا کے مکین حامد مُونگا نے کہا کہ میں یہاں قربانی کے موقع پہ طلبا کا خاص خیال رکھتے ہوئے انہیں گوشت پہنچاتا ہوں تاکہ وہ بھی قربانی کا گوشت کھا سکیں ۔







