ایک ایسے وقت جب غزہ جنگ کے علاقے میں پھیلنے کا حقیقی خطرہ بڑھ رہا ہے، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیل، غزہ اور مغربی کنارے میں مبینہ جنگی جرائم کی "فعال تحقیقات جاری" ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں مزید یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کے آپشنز پر غور کرتے ہوئے اپنی زمینی کارروائی کے طریقہ کار پر کاربند ہے۔مگر ایران نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اس کی جارحیت "سرخ لکیر" پار کر گئی ہے۔
مصر اور غزہ کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کا دورہ کرنے کے بعد، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے چیف پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ جب جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات ان کی ترجیح ہے۔
پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مشن کے تحت غزہ اور اسرائیل کا دورہ کرنے کی امید رکھتے ہیں۔اور اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے اقدامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
مسٹر خان کا کہنا ہے کہ غزہ کی آبادی کو امدادی سامان کی فراہمی کو روکنا بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار کے تحت جرم بن سکتا ہے۔
حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں کے بعد سے،غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد - 9,000 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو 1,400 شہری مارے گئے جب کہ حماس کے زیر انتظام غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کم از کم 8,000 ہلاک ہو چکے ہیں۔
بہت سے لوگوں کے لیے انٹرنیٹ اور فون کنیکٹیویٹی بحال کر دی گئی اسرائیلی حملوں کے بعد علاقے میں 24 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔
اسرائیل نے امدادی ٹرکوں کی آمد کو بھی روک دیا ہے جب کہ گزشتہ ہفتے 80 کے قریب امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے تھے۔امدادی گروپوں کے مطابق یہ تعداد ضرورت سے بہت کم ہے۔خوراک کی تلاش میں ہزاروں فلسطینیوں نے اقوام متحدہ کے گوداموں پر ہلۃ بول دیا ہے تاکہ آٹا اور بنیادی حفظان صحت سے متعلق مصنوعات حاصل کت سکیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے سے تعلق رکھنے والی جولیٹ توما کا کہنا ہے کہ گوداموں کے مناظر لوگوں کی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
جنوبی غزہ میں، رامی الرقان نے اپنی جوان بیٹی کے ساتھ ایک خیمے کے اندر پناہ لی ہے۔
امدادی گروپ سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ اب جنگ بندی کاشد ضرورت ہے کیونکہ گزشتہ تین ہفتوں میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 3200 سے تجاوز کر گئی ہے۔
خیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 2019 سے جنگی علاقوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کی سالانہ تعداد سے زیادہ ہے۔
غزہ میں فوری جنگ بندی کے مطالبات کی حمایت پوپ فرانسس اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کی ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ جنگ ’دوسرے مرحلے‘ میں داخل ہو چکی ہے کہا کہ تین ہفتوں سے جاری اسرائیل اور حماس کی جنگ اسرائیل کے وجود کی جنگ ہے، ۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت 7 اکتوبر کے حملوں کے دوران حماس کے ہاتھوں بنائے گئے کم از کم 239 یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
مگر ان کے اس بیان سے سے یرغمالیوں کے اہل خانہ مطمئن نہیں ہوئے، جن میں سے کچھ اسرائیلی جیلوں میں تقریباً پانچ ہزار فلسطینی قیدیوں کے بدلے حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر دیگر گروپس کا کہنا ہے کہ وہ ایسے قیدیوں کے تبادلے کی مخالفت کریں گے جس میں حماس کے ارکان شامل ہوں گے
حالیہ دنوں میں چار یرغمالیوں کی رہائی سے دیگر یرغمالیوں کے بارے میں خبر کا انتظار کرنے والے خاندانوں کے لیے راحت ملی ہے۔
دریں اثنا، ایران کے صدر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت "سرخ لکیروں کو عبور کر چکی ہے، جو ہر کسی کو کارروائی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے"۔
ایک بیان میں ابراہیم رئیسی نے کہا: "واشنگٹن ہم سے غیر جانبدار رہنے کو کہ رہا ہے، لیکن دوسری طرف وہ اسرائیل کی وسیع حمایت جاری رکھے ہوئے ہے"۔
وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے خبردار کیا ہے کہ جنگ مشرق وسطیٰ میں پھیلنے کے لیے "حقیقی خطرہ" ہے۔
مزید جانئے

اسرائیل فلسطین تنازعہ: ایک مختصر تاریخ
کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو
کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
§ ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے
§ اردو پرگرام سننے کے اور طریقے
§ “SBS Audio” کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ انسٹال کیجئے
یا اینڈرائیڈ
ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے
§ پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:






