محمد فاروق آدم، جو اس وقت کوئنزلینڈ میں مقیم ہیں، ایک طویل عرصے سے آسٹریلیا میں بین الثقافتی ہم آہنگی، اردو زبان کے فروغ اور کمیونٹی کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ ان کی کمیونٹی ورک کی بنیاد 1990 کی دہائی میں پڑی جب وہ جنوبی افریقہ سے آسٹریلیا ہجرت کر کے آئے اور اپنے رضاکارانہ سفر کا آغاز کیا۔

انہیں ’میڈل آف دی آرڈر آف آسٹریلیا‘ ملنے کی خبر نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری مہاجر برادری کے لیے باعثِ فخر لمحہ تھی۔ یہ اعزاز ان کے اس عزم کا اعتراف ہے جو انہوں نے آسٹریلیا کی کثیرالثقافتی شناخت کو مضبوط بنانے میں دکھایا۔ فاروق آدم ماضی میں بھی متعدد کمیونٹی ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں، مگر یہ اعزاز ان کے کام کی قومی سطح پر پذیرائی ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ آسٹریلیا میں بسنے والے مہاجرین کو درپیش چیلنجز جیسے زبان، شناخت اور شمولیت کے مسائل پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ رضاکارانہ کام کو معاشرتی ترقی کی بنیاد سمجھتے ہیں اور اس میں نوجوانوں کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ اُن کی نظر میں یہ اعزاز نہ صرف ایک اعراف ہے بلکہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بھی ہے۔




