زہریلے مشروم اکثر خود رو اور خوبصورت ہو تے ہیں اور عام مشروم جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں، اس لیے انہیں پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔ نیوٹریشنسٹ ثانیہ کیانی کہتی ہیں کہ کچھ نشانیاں ایسی ہیں جن سے ابتدائی پہچان ممکن ہے مگر وہ مشورہ دیتی ہین کہ بیک یارڈ، فٹ پاتھ کے کنارے اور عام میدانوں میں خودرو اگنے والے جنگلی مشروم کو نہ توڑیں اور نہ انہیں ہاتھ لگائیں۔ بلکہ صرف تصدیق شدہ لیبل والے مشروم ہی خریدیں- مزید تفصیل اس پوڈکاسٹ میں سنیے۔
نیوٹریشنسٹ ثانیہ کیانی کے مطابق مشروم ہماری روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہیں، جو گھریلو باورچی خانوں سے لے کر ریستورانوں تک مختلف کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ وٹامنز کا بہترین ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی بیماریوں کے علاج میں ادویاتی طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشروم صحت کے لیے مفید ہیں، لیکن کھانے سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ وہ زہریلے نہ ہوں, کیونکہ زہریلے مشروم عموماً خوبصورت اور عام مشروم جیسے نظر آتے ہیں، اس لیے انہیں پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔
ثانیہ کیانی بتاتی ہیں کہ کچھ نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جن سے ابتدائی طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تاہم وہ مشورہ دیتی ہیں کہ فٹ پاتھ، بیک یارڈ یا کھلے میدانوں میں خودرو اگنے والے جنگلی مشروم کو نہ توڑیں، نہ انہیں ہاتھ لگائیں۔ محفوظ استعمال کے لیے صرف تصدیق شدہ لیبل والے مشروم ہی خریدیں۔ مزید تفصیل پوڈکاسٹ میں-





