برمیز روہنگیا کمینیوٹی ان آسٹریلیا کے صدر احسان الحق کے مطابق میانمار کی حکومت کے اصرار کے باوجود ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے لاکھوں روہنگیا مہاجرین کی میانمار کی ریاست راکھین واپسی کے لیے حالات ابھی تک سازگار نہیں ہیں۔ایس بی ایس اردو سے بات کرتے ہویئے انہوں نے بتایا کی آسٹریلیا پہنچنے والے روہنگیا افراد کی اکثریت کشتیوں کے ذریعے آنے والے پناہ گزینوں کی ہے جو ویزےکے مشکل مراحل کے باعث خاندان کے دیگر افراد کو یہاں بلانے کے سلسلے میں شدید دشواریوں کا شکار ہیں۔اقوام متحدہ کے حقائیق جاننے کے لئیے قائیم کردہ گروپ کی رپورٹ میں میانمار کے چھ فوجی جرنلوں پر نسل کشی کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ گزشتہ برس اگست سے اب تک تقریباﹰ سات لاکھ روہنگیا مہاجرین میانمار کی ریاست راکھین سے پناہ کے حصول میں بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔ راکھین میں انہیں میانمار کی فوج کے جبر و تشدد کا سامنا بھی رہا۔ اس دوران روہنگیا کے درجنوں دیہات کو جلا دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق نے اس پُرتشدد کارروائیکو روہنگیا کینسل کشی قرار دیا۔
شئیر





