آسٹریلین حکومت کے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لئے تعینات کمیشن کے سربراہ نے اپنی رپورٹ جاری کردی ہے۔ اور وفاقی حکومت سے کم از کم 9 سفارشات پر عملدرامد کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ رپورٹ آسٹریلین اسلاموفوبیا رجسٹر کے ڈیٹا کے بعد آئی ہے، جس میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسلاموفوبیا میں 530 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اسلاموفوبیا رجسٹر آسٹریلیا نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اسلاموفوبیا کے حوالے سے نمائندے کی سفارشات کو اپنائے اور ملک میں مسلم کمیونٹی کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائے۔
یہ اس وقت آیا جب آسٹریلیا کے پہلے خصوصی نمائندے برائے اسلاموفوبیا کے خلاف، آفتاب ملک، نے پچھلے ہفتے [[جمعہ]] کو آسٹریلیا میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کی۔
اسلاموفوبیا رجسٹر آسٹریلیا کی شریک ایگزیکٹو ڈائریکٹر، شرارہ عطائی نے رپورٹ کا خیرمقدم کیا۔
عطائی نے ایس بی ایس نیوز کو بتایا کہ آسٹریلیا میں مسلم کمیونٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان تعلقات میں دراڑ ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ کمیونٹیز لازمی طور پر یہ نہیں مانتی ہیں کہ وفاقی حکومت نے ان کے خدشات کو وہ توجہ دی ہے جو ان کو ملنی چاہیے۔





