آسٹریلیا نے امریکہ کی زیرِقیادت اس اقدام کی حمایت کی ہے جس کے تحت کسی بھی ملک کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغنے سے کم از کم چوبیس گھنٹے پہلے اطلاع دینا ہوگی۔۔ ون نیشن کی رہنما پولین ہینسن نے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی گریجویٹس اور انٹرنیشنل اسٹوڈنس کو تعلیم کے خاتمے کے بعد فیملی سمیت آسٹریلیا چھوڑ دینا چاہئے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے ۵ برس مکمل ہونے سے قبل مطالبہ کیا ہے کہ صنفی امتیاز کے خاتمے پر مبنی نظام کو بین الاقوامی قانون کے تحت تسلیم کیا جائے۔
آسٹریلیا نے امریکہ کی زیرِقیادت اس اقدام کی حمایت کی ہے جس کے تحت کسی بھی ملک کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغنے سے کم از کم چوبیس گھنٹے پہلے اطلاع دینا ہوگی۔آسٹریلیا نے امریکہ کی زیرِقیادت اس اقدام کی حمایت کی ہے جس کے تحت کسی بھی ملک کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغنے سے کم از کم چوبیس گھنٹے پہلے اطلاع دینا ہوگی۔
یہ اقدام جولائی میں جنوبی بحرالکاہل میں چین کی جانب سے جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائل کے تجربے کے بعد سامنے آیا ہے، جو آسٹریلیا اور فجی کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے کچھ ہی عرصے بعد کیا گیا تھا۔
مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ مناسب پیشگی اطلاع کے بغیر میزائل تجربات غلط اندازوں کے خطرے کو بڑھاتے ہیں اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ون نیشن کی رہنما پولین ہینسن نے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی گریجویٹس اور انٹرنیشنل اسٹوڈنس کواپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آسٹریلیا چھوڑ دینے کی پالیسی بنائی جائے۔ ون نیشن ، مستقل امیگریشن کو سالانہ ایک لاکھ ۳۰ ہزار افراد تک محدود کرنا چاہتی ہے، اور اس کا مؤقف ہے کہ کم امیگریشن سے رہائش، اجرتوں اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ کم ہوگا۔
پالین ہینسین کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اتحادی جماعتیں بیرون ملک امیگریشن کو سالانہ ایک لاکھ ۸۰ ہزار سے کم کرنے کی تجویز دے رہی ہیں۔ شیڈو وزیر برائے رہائش اینڈریو بریگ کا کہنا ہے کہ امیگریشن کی سطح کو نئے تعمیر ہونے والے گھروں کی تعداد سے بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر ہینسن کا کہنا ہے کہ امیگریشن کم کرنے کی کوششوں کے تحت بین الاقوامی طلبہ کے ساتھ ان کے ساتھ آنے والے اہل خانہ کو بھی ملک چھوڑنے کی پالیسی ہونا چاہیے۔
اتحادی جماعتوں نے آسٹریلوی وفاقی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ جاپان کی جانب سے وزیراعظم انتھونی البانیزی کے نام نہاد "خربوزوں" کے تنازع پر بھیجے گئے ایک سفارتی مراسلے کے مبینہ افشا کی تحقیقات کی جائیں۔
خواتین کے حقوق کی کارکن پریسا سکندری، جو افغانستان میں لڑکیوں کو آن لائن تعلیم فراہم کرنے کے لیے کام کرتی ہیں، کا کہنا ہے کہ تعلیم پر پابندیوں کے تباہ کن نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اسکول کی تعلیم تک رسائی نہ ہونے سے افغان خواتین اور لڑکیوں میں جبری شادیوں اور خودکشی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن اعتماد کا ووٹ جیت گئے ہیں اور نیشنل پارٹی کی قیادت جاری رکھیں گے۔
کرسٹوفر لکسن نے اپنی قیادت کے بارے میں کئی دن کی قیاس آرائیوں کے بعد خود اعتماد کا ووٹ طلب کیا تھا۔ یہ قیاس آرائیاں ان کی کمزور ذاتی مقبولیت اور کئی سیاسی غلطیوں کے باعث شدت اختیار کر گئی تھیں۔





