مختصر خبریں : 24 مارچ 2026

URSULA VON DER LEYEN AUSTRALIA VISIT

President of the European Commission Ursula von der Leyen is greeted by Australian Prime Minister Anthony Albanese during a visit to Australia. Source: AAP / Lukas Coch

آسٹریلیا اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، جس کے ساتھ ہی آٹھ برس پر محیط بات چیت کا سلسلہ اختتام کو پہنچا۔ یہ معاہدہ آسٹریلوی معیشت کے لیے سالانہ دس ارب ڈالر کی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے تحت آسٹریلوی برآمدات، جن میں شراب، سمندری خوراک اور باغبانی کی مصنوعات شامل ہیں، پر عائد محصولات ختم کر دیے جائیں گے۔


  • Shadow وزیر برائے توانائی Dan Tehan کا کہنا ہے کہ ایندھن کی فراہمی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر توانائی Chris Bowen نے پارلیمان کو بتایا کہ ریاست وکٹوریا میں ایک سو نو پٹرول پمپ ایسے ہیں جہاں کم از کم ایک قسم کا پیٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کوئنزلینڈ میں سینتالیس پٹرول پمپ ڈیزل سے محروم ہیں اور بتیس پمپ عام پیٹرول فراہم نہیں کر رہے۔ نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ Chris Minns کے مطابق ان کی ریاست میں ایک سو پانچ پٹرول پمپوں پر ڈیزل دستیاب نہیں ہے۔
  • قومی کسان فیڈریشن نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت آسٹریلیا کی خوراک کی فراہمی کے نظام کا جائزہ لینے کا حکم دیا گیا ہے، جس میں خاص طور پر ڈیزل کی فراہمی پر توجہ دی جائے گی۔ اینڈریو ہینڈرسن کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس جائزے کو مکمل کریں، جس کی عبوری رپورٹ ایک ماہ میں جبکہ حتمی رپورٹ سال کے اختتام تک پیش کی جائے گی۔
  • امریکہ کے صدر Donald Trump کا کہنا ہے کہ امریکی نمائندے ایک بااثر ایرانی رہنما کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، حالانکہ ایران اس سے قبل اعلیٰ سطحی رابطوں کے دعوے کی تردید کر چکا ہے۔ اڑتالیس گھنٹوں کی وہ مہلت ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل، جو انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی تھی، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائی کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔
  • آزاد ارکانِ پارلیمان نے مطالبہ کیا ہے کہ آسٹریلیا میں مقیم ایرانی پناہ گزینوں کو، جو گزشتہ آٹھ برس سے عارضی ویزوں پر انتظار کر رہے ہیں، مستقل تحفظ فراہم کیا جائے۔ اسی ماہ وفاقی حکومت نے ایرانی خواتین کی فٹبال ٹیم کی سات کھلاڑیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے دیے، تاہم ان میں سے صرف دو نے آسٹریلیا میں رہنے کا فیصلہ کیا جبکہ دیگر ایران واپس چلی گئیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ ان کھلاڑیوں پر اپنے خاندانوں کی سلامتی کے باعث واپس جانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
_________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now