گزشتہ ہفتے پاکستان بھر میں بجلی کے نرخوں میں بے تحاشا اضافے کا تذکرہ ہوتا رہا۔ بے پناہ مہنگائی، پٹرول کی ٹرپل سنچری اور بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ سابق حکومت ہو یا پھر موجودہ نگراں حکومت کے فیصلے، عوام ان سے سخت پریشان ہیں۔
حالیہ پیٹرول کی قیمتوں، مہنگائی، بجلی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کیخلاف تاجروں اور جماعت اسلامی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر ملک بھر سمیت معاشی حب کراچی میں بیشتر بازار اور کاروباری مراکز بند رہے، صبح سویرے شہر کی مختلف سڑکوں پر احتجاج کیا گیا اور ٹائر جلائے گئے، نیشنل ہائی وے بند کرنے پر پولیس اور شہریوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں لیکن اس کے باوجود نیشنل ہائی وے کے اطراف تمام تر مارکیٹیں بند رہیں۔

بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بالعموم پاکستان اور بالخصوص کراچی میں تو معمول کی بات سمجھی جاتی ہے لیکن اب ہر گزرتے دن کے ساتھ بجلی کی فی یونٹ قیمتوں میں اضافے کو شہریوں نے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ ان ہی فیصلوں کیخلاف کراچی کی سڑکوں پر نکلے شہریوں کے مطابق اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بدستور اپنی جگہ پر موجود ہے تو ساتھ ہی بجلی کے بلز میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے جو اب ان کی برادشت سے باہر ہوگیا ہے۔
یہی نہیں بلکہ بجلی کی بڑھتی قیمتوں کا اثر اب شہر کی چھوٹی، بڑی مارکیٹوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ تاجر برادری لوڈ شیڈنگ کے مسائل سے پہلے ہی پریشان تھی اس کے ساتھ اب بھاری بھر کم بلوں نے ان کیلیے کاروبار کرنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ تاجروں کے مطابق مہنگے پیٹرول اور بجلی کے بلز کے باعث کاروبار کو مزید چلانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ان فیصلوں کیخلاف دکانیں بند کر کے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر کہتے ہیں ہماری سانسیں رک سکتی ہیں لیکن احتجاج کا سلسلہ اب نہیں رُکے گا، مہنگے پیڑول اور بجلی کے بلز نے احتجاج کرنے پر مجبور کردیاہے۔

تاجر تنظیموں اور جماعت اسلامی کی کال پر چھوٹی بڑی مارکیٹیں بشمول بولٹن مارکیٹ، ناگن چورنگی،حیدری مارکیٹ، ناظم آباد، کریم آباد، لیاقت آباد مارکیٹ، تبت سینٹر، الیکٹرانکس مارکیٹ، صدر،کھارادر، میٹھادر، طارق روڈ اور بہادر آباد سمیت شہر کے بیشتر بازاروں میں کاروبار مکمل طور پر بند رہا۔ الیکٹرانکس مارکیٹ کے صدر رضوان عرفان کہتے ہیں کراچی میں تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں احتجاجا بند رہیں۔ 72 گھنٹوں میں اگر ریلیف نہ ملا تو احتجاج کا دائرہ کار مزید بڑھائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کامیاب ہڑتال پر تاجروں اور عوام سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک جیسی مافیاز اور وائٹ کالر کرمنلز کے خلاف جدوجہد جاری رکھتے ہوئے بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرانی ہے۔
جماعت اسلامی کی کال پر ملک کے دیگر بڑے شہروں لاہور ، فیصل آباد ، روالپنڈی، پشاور ، کوئٹہ ، ملتان سمیت کئی شہروں میں بھی جزوی ہڑتال رہی اور بیشتر چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند رہے ۔

پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں چار سال کے بعد ایک روزہ مقابلے میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں تو دنیا بھر کے فینز کی نظریں اس بڑے میچ پر جم گئیں۔ ایشیا کپ کا فائنل سے قبل سے فائنل سمجھا جانے والا یہ مقابلہ ویسے تو سری لنکا کے شہر کینڈی کے پالی کیلیے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تاہم اس میچ کو دیکھنے والے دنیا بھر میں موجود تھے۔
پاکستان میں بھی اس بڑے میچ کا شدت سے انتظار کیا جارہا تھا اور ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی جگہ جگہ بڑی اسکرینز لگا کر پاکستان اور بھارت کے ہائی وولٹیج مقابلے کو دیکھنے کا اہتمام کیا گیا۔
آرٹس کونسل کراچی میں بھی صبح سے ہی بڑی اسکرین لگا دی گئی تھی جہاں پاک بھارت میچ کےآغاز سے قبل ہی فینز کی آمد شروع ہو گئی تھی اور کرکٹ فینز میچ شروع ہوتے ہی بڑے اہنماک کے ساتھ میچ دیکھنے میں مشغول رہے۔

بھارتی ٹیم کی ابتدا میں لڑکھڑاتی بیٹنگ اور شاہین شاہ آفریدی کے خطرناک اسپیل پر کرکٹ فینز نے خوب بھنگڑے ڈالے اور جشن منائے ، تاہم دوران میچ بار بار بارش کی انٹری اور بھارتی ٹیم کے مڈل آرڈر کے کم بیک کےبعد بڑی اسکرینز کے سامنے بیٹھے شائقین حریف ٹیم کے کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کی امیدیں لگاتے رہے ۔
فینز کہتے ہیں گھر پر موجود ٹی وی پر میچ دیکھنے سے زیادہ مزہ دوستوں اور فیملی کے ساتھ بڑی اسکرین پر میچ دیکھنے کا آتا ہے۔

بھارتی ٹیم کی اننگز کے اختتام پر شائقین کرکٹ کو امید تھی کی پاکستانی بیٹنگ لائن اپ بھارت کی جانب سے دیئے گئے ہدف کو بآسانی حاصل کر لے گی تاہم بارش نے ان کی یہ خواہش پوری ہونے نہیں دی۔
پاکستانی کرکٹ فینز کو امید ہے ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں بھارت اور پاکستان کا مقابلہ ہوا تو پاکستان ٹیم میچ میں فتح حاصل کر لے گی۔
(رپورٹ: احسان خان)




