اہم نکات
- الیکشن کی تاریخ کا تنازعہ اور نواز شریف کی وطن واپسی
- صداقت عباسی بھی تحریک انصاف اور سیاست چھوڑ گئے
- عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر
- غیرقانونی تارکین وطن کی واپسی شروع
پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ کو لیکر پاکستان پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام آمنے سامنے آگئی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے فوری الیکشن شیڈول کے مطالبے پر مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے خود کابینہ میں نئی مردم شماری کے تحت انتخابات کی منظوری دی۔ اب بیان بازی کے ذریعے ہمدریاں لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ عام انتخابات جنوری کے آخری ہفتے میں بھی نہیں ہوسکتے کیونکہ شدید سرد موسم اور برفباری کے باعث بالائی علاقوں کے مکین اپنا گھر بار چھوڑ دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے مولانا پر اسٹبلشمنٹ کی سہولت کاری کا الزام عائد کیا ہے۔
ادھر صدر مملکت عارف علوی نے عام انتخابات میں تمام جماعتوں اور سیاسی قیادت کو برابر مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی وطن واپسی کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ نواز شریف نے دبئی سے پاکستان آنے کیلئے خصوصی طیارہ بک کروا لیا ہے۔ نواز شریف آج لندن سے سعوی عرب روانہ ہونگے۔ جہاں سے وہ 18 اکتوبر کو دبئی پہنچیں گے۔ میاں نواز شریف دونوں ممالک میں اعلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور 21 اکتوبر کو سیاسی کارکنان اور صحافیوں کے ہمراہ دبئی سے پاکستان کیلئے روانہ ہونگے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے میاں نواز شریف کی وطن واپسی پر لاہور میں استقبال اور مینار پاکستان پر بڑے پاور شو کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ میاں شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز اور دیگر قائدین جلسوں اور ریلیوں کے ذریعے کارکنان کو متحرک کررہے۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف آکر ملک کو درست سمت پر گامزن کریں گے۔
ن لیگ کی قانونی ٹیم نے بھی میاں نواز شریف کی وطن واپسی پر ان کی ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قانونی ٹیم 16 یا 17 اکتوبر کو میاں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کیلئے درخواست دائر کرے گی۔ میاں نواز شریف کو ایون فیلڈ میں 10 سال اور العزیزیہ کیس میں 7 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ استحکام پاکستان پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نواز شریف ایون فیلڈ میں بیٹھ کر فیلڈنگ سیٹ کررہے ہیں انکی رپورٹس انکے ووٹس کو خراب کرسکتی ہیں۔

تحریک انصاف کے ایک اور لاپتہ رہنما نے بازیابی کے بعد پارٹی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما صداقت عباسی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی ذہن سازی چیئرمین تحریک انصاف نے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بیانیہ یہی تھا کہ ہماری لڑائی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ہے۔7 مئی کوزوم میٹنگ بشری بی بی تجویز پربلائی گئی تھی۔انکا مزید کہنا تھا کہ 6 مئی ریلی کچہری چوک پر نکال کر اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا تھا۔
اس سے قبل عثمان ڈار نے بھی بازیابی کے بعد پارٹی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا تھا ۔ ادھر عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے والے تحریک انصاف کے رہنماوں کے ویڈیو پیغامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تحریک انصاف کے پی کے رہنما شہرام ترکئی نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے ہمیشہ پرامن رہنے کی تلقین کی۔ ادھر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف مکافات عمل سے گزر رہی ہے۔ جب یہ اقتدار میں تھے تو فرعون بنے ہوئے تھے۔

سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ سائفر کیس کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اور اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی عدالت میں پیش ہوئے۔ شاہ محمود قریشی کے وکیل، بیٹا اور بیٹی بھی عدالت پہنچے۔ تحریک انصاف کے وکلاء کے مطابق عمران خان نے عدالت کے سامنے جیل میں سہولیات نہ ملنے اور غیرانسانی سلوک کی شکایت کی۔
ادھر آر ڈی اے نے مبینہ طور پر عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کا ذاتی گھر تجاوزات قرار دے کر مسمار کردیا۔شیر افضل مروت نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں عمران خان کا ساتھ دینے کی سزا دی جارہی ہے۔

حکومت پاکستان نے غیرقانونی تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کیلئے 31 اکتوبر تک کی مہلت دی ہے اس مہلت میں اب صرف 20 دن باقی رہ گئے ہیں۔غیرقانونی تارکین وطن کو نکالنے کیلئے مختلف اداروں کی طرف سے کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نگران وزیراعلی بلوچستان، کور کمانڈر سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی کو بلوچستان میں جاری اسمگلنگ، منشیات اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی باشندوں کیخلاف کاروائی پر بریفنگ دی گئی ۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے فوج کی جانب سے غیرقانونی سرگرمیوں کیخلاف کاروائیوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
ادھر نگران وزیر داخلہ سندھ بریگیڈر ریٹائرڈ حارث نواز نے کہا ہے کہ ایسا طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے جس کے تحت رجسٹرڈ غیرملکیوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ صرف غیرقانونی طور پر مقیم باشندوں کو ملک بدر کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں اب تک 1600 سے 1700 غیرقانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان کے مطابق اب تک غیرقانونی تارکین وطن کے 50 کے لگ بھگ خاندان اپنے وطن منتقل ہوچکے ہیں۔
(رپورٹ: اصغرحیات)



