پاکستان میں حکمران اتحاد نے نگران سیٹ اپ کیلئے مشاورت کا آغاز کردیا ہے، سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے جس میں اسمبلیوں کی تحلیل، نگران سیٹ اپ اور انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے۔ پاکستان کی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں میں 8 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم پر اتفاق کرلیا ہے، کمیٹی کا اجلاس ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا جس میں الیکشن ایکٹ میں ترامیم کو حتمی شکل دیدی گئی۔
ادھر تحریک انصاف نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم اور نگران سیٹ اپ کے حوالے اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کے سنئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بند کمرے میں پاکستان کے سیاسی مستقبل کے فیصلے نہیں ہونے چاہیں، تحریک انصاف بھی ایک اسٹیک ہولڈر ہے جس کے ساتھ مشاورت ہونی چاہیے۔

حزب اختلاف کی پاکستان جماعت تحریک انصاف کو خبیرپختونخواہ میں بڑا جھٹکا لگا، سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرینز کے نام سے الگ سیاسی جماعت بنالی ہے، خیبر پختونخواہ کے سابق وزیراعلی، سابق وزراء اور کے پی اسمبلی کے سابق اراکین کی بڑی تعداد نے پرویز خٹک کی حمایت کا اعلان کیا ہے، پارٹی کے پہلے اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کو نہ صرف عوام بلکہ سیاسی قیادت نے مسترد کیا ہے، تحریک انصاف پارلیمنٹیرین نے 57 سے زائد ارکان کی حمایت کا دعوی کیا تھا لیکن سابق صوبائی وزیر انور زیب خان، سابق اراکین اسمبلی وزیر دادا، اعظم خان، غزن جمال، ضیا اللہ بنگش نے تحریک انصاف پارلیمنٹرین میں شمولیت کی تردید کی ہے، پرویز خٹک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ممبران کی اصل فہرست ان کے پاس ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت عمران خان کو اکتوبر میں الیکشن دینے کیلئے راضی ہوگئی تھی لیکن عمران خان نہیں مانے، ان کا ایجنڈا 9 مئی تھا، ادھر عمران خان نے پرویز خٹک کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کبھی بھی الیکشن کیلئے راضی نہیں ہوئی.

سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر وفاقی حکومت کی فل کورٹ کی استدعا مسترد کردی ہے، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے فل کورٹ کے حق میں دلائل دیئے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ گزشتہ سماعتوں میں آپ بینچ کے ممبران پر اعتراض اٹھا چکے اب فل کورٹ بنانے کی استدعا کیسے کرسکتے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تکنیکی بنیادوں پر فل کورٹ بنانا ممکن ہی نہیں ہے، کیس کی سماعت کا آغاز عدالتی تعطیلات کے دوران ہوا، کچھ ججز بیرون ملک ہیں اور کچھ چھٹیاں منا رہے ہیں، جبکہ تین ججز نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے، دستیاب ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دیا، سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکومت نے عدالت کے سامنے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے، حکومت کبھی فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتی ہے کبھی بینچ پر اعتراض اٹھاتی ہے، وزارت دفاع کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ اس کیس میں عدلیہ کو جلد بازی سے باز رہنا ہوگا، ایسا فیصلہ آنا چاہیے جو سب کیلئے ون ون صورتحال ہو۔

توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جج پر عدم اعتماد کی درخواست عدالت نے مسترد کردی ہے، ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استشنی کی درخواست قبول کرتےہوئے 20 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔۔عمران خان کے وکیل نے جج کی فیس بک پوسٹ پر اعتراض اٹھایا جس پر عدالت نے وکیل کی سرزنش کردی۔
دوسری جانب اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے دوران عدت نکاح کے کیس کے قابل سماعت ہونے کا 9 صحفات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بشرہ بی بی کا دوران عدت عمران خان کیساتھ نکاح ہوا، نکاح خواں مفتی سعید کے مطابق انہوں نے عمران خان اور بشرہ بی بی کا دو مرتبہ نکاح پڑھایا، دوران عدت نکاح کے بعد عمران خان اور بشرہ بی بی بنی گالہ میں ایک ساتھ رہتے رہے، عدت کے دوران نکاح کرکے مبینہ طور پر جرم کا ارتکاب کیا گیا، معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے کیونکہ بنی گالہ اسلام آباد میں ہے۔۔

ادھر لاہور ہائیکورٹ نے سائفر کی تحقیقات کیلئے دیا گیا حکم امتناع واپس لے لیا ہے،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے حکومتی درخواست منظور کرتے ہوئے سنگل بینچ کا حکم امتناع واپس لے لیا۔جس کے بعد اب ایف آئی اے سائفر کے معاملے پر سابق وزیراعظم عمران خان سے تحقیقات کرسکے گا.
کراچی سٹی کونسل کا پہلا اجلاس ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کی نذر ہوگیا، اجلاس شروع ہوتے ہی تحریک انصاف فارورڈ بلاک اور پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین آمنے سامنے آگئے، تحریک انصاف کے اراکین نے قبضہ میئر کے نعرے لگا دیئے، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن کو تقریر کا موقع ملا تو انہوں نے بھی اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا پیپلزپارٹی کے ارکان کے ٹوکنے پر حافظ نعیم الرحمن نے ایوان میں نعرے لگوادیئے، تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر کی تقریر کے دوران بھی شور شرابا شروع ہوگیا اور ارکان گھتم گھتا ہوگئے، میئر کو مجبورا اجلاس ملتوی کرنا پڑا، میئر مرتضی وہاب نے جماعت اسلامی پر انتشار کی سیاست کا الزام عائد کیا ہے
رپورٹ : اصغرحیات




